سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب الطَّوَافِ الْوَاجِبِ باب: طواف واجب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1878
حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الْيَامِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ طَافَ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ فِي يَدِهِ ، قَالَتْ : وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مکہ میں اطمینان ہوا تو آپ نے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے ، اور میں آپ کو دیکھ رہی تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2947 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´چھڑی سے حجر اسود کے استلام (چھونے) کا بیان۔`
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب فتح مکہ کے سال اطمینان ہوا تو آپ نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ حجر اسود کا استلام ایک لکڑی سے کر رہے تھے جو آپ کے ہاتھ میں تھی، پھر کعبہ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ اس میں لکڑی کی بنی ہوئی کبوتر کی مورت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے توڑ دیا، پھر کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور اسے پھینک دیا، اس وقت میں آپ کو دیکھ رہی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2947]
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب فتح مکہ کے سال اطمینان ہوا تو آپ نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ حجر اسود کا استلام ایک لکڑی سے کر رہے تھے جو آپ کے ہاتھ میں تھی، پھر کعبہ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ اس میں لکڑی کی بنی ہوئی کبوتر کی مورت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے توڑ دیا، پھر کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور اسے پھینک دیا، اس وقت میں آپ کو دیکھ رہی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2947]
اردو حاشہ:
فوائدومسائل: (1)
سواری پر سوار ہو کر طواف کرنا درست ہے لہٰذااگر کوئی شخص کسی عذر کی وجہ سے ڈولی پر یا پہیوں والی کرسی پر طواف کرے تو طواف درست ہے۔
(2)
طواف کے دوران میں اگر حجر اسود کو ہاتھ لگانا مشکل ہو تو چھڑی وغیرہ لگا کر اسے بوسہ دے دیا جائے تو درست ہے۔
ورنہ اشارہ کرلینا کافی ہے۔
(3)
محجن اس عصا یا چھڑی کو کہتے ہیں جس کا ایک سرا مڑا ہوا ہوتا ہے۔
(4)
جاندار چیز کا بت توڑ کر پھینک دینا چاہیے اور تصویر مٹا دینی چاہیے۔
رسول اللہﷺ نے کعبہ کی دیواروں پر نقش تصاویر کو مٹانے کا حکم دیا تھا۔
فوائدومسائل: (1)
سواری پر سوار ہو کر طواف کرنا درست ہے لہٰذااگر کوئی شخص کسی عذر کی وجہ سے ڈولی پر یا پہیوں والی کرسی پر طواف کرے تو طواف درست ہے۔
(2)
طواف کے دوران میں اگر حجر اسود کو ہاتھ لگانا مشکل ہو تو چھڑی وغیرہ لگا کر اسے بوسہ دے دیا جائے تو درست ہے۔
ورنہ اشارہ کرلینا کافی ہے۔
(3)
محجن اس عصا یا چھڑی کو کہتے ہیں جس کا ایک سرا مڑا ہوا ہوتا ہے۔
(4)
جاندار چیز کا بت توڑ کر پھینک دینا چاہیے اور تصویر مٹا دینی چاہیے۔
رسول اللہﷺ نے کعبہ کی دیواروں پر نقش تصاویر کو مٹانے کا حکم دیا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2947 سے ماخوذ ہے۔