حدیث نمبر: 1864
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَاضِرٍ الْحِمْيَرِيَّ يُحَدِّثُ أَبِي مَيْمُونَ بْنَ مِهْرَانَ ، قَالَ : خَرَجْتُ مُعْتَمِرًا عَامَ حَاصَرَ أَهْلُ الشَّامِ ابْنَ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ وَبَعَثَ مَعِي رِجَالٌ مِنْ قَوْمِي بِهَدْيٍ ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى أَهْلِ الشَّامِ مَنَعُونَا أَنْ نَدْخُلَ الْحَرَمَ ، فَنَحَرْتُ الْهَدْيَ مَكَانِي ثُمَّ أَحْلَلْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ خَرَجْتُ لِأَقْضِيَ عُمْرَتِي ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " أَبْدِلِ الْهَدْيَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُبَدِّلُوا الْهَدْيَ الَّذِي نَحَرُوا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ` میں نے ابوحاضر حمیری سے سنا وہ میرے والد میمون بن مہران سے بیان کر رہے تھے کہ جس سال اہل شام مکہ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا محاصرہ کئے ہوئے تھے میں عمرہ کے ارادے سے نکلا اور میری قوم کے کئی لوگوں نے میرے ساتھ ہدی کے جانور بھی بھیجے ، جب ہم اہل شام ( مکہ کے محاصرین ) کے قریب پہنچے تو انہوں نے ہمیں حرم میں داخل ہونے سے روک دیا ، چنانچہ میں نے اسی جگہ اپنی ہدی نحر کر دی اور احرام کھول دیا اور لوٹ آیا ، جب دوسرا سال ہوا تو میں اپنا عمرہ قضاء کرنے کے لیے نکلا ، چنانچہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور میں نے ان سے پوچھا ، تو انہوں نے کہا کہ قضاء کے عمرہ میں حدیبیہ کے سال جس ہدی کی نحر کر لی تھی اس کا بدل دو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تھا کہ وہ عمرہ قضاء میں اس ہدی کا بدل دیں جو انہوں نے حدیبیہ کے سال نحر کی تھی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1864
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (2712), محمد بن إسحاق بن يسار صرح بالسماع عند البيھقي في دلائل النبوة (4/ 320) و للحديث شاھد قوي عند الحاكم (1/ 485)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 5873) (ضعیف) » (اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کی ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´حج سے روک لیے جانے کا بیان۔`
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے ابوحاضر حمیری سے سنا وہ میرے والد میمون بن مہران سے بیان کر رہے تھے کہ جس سال اہل شام مکہ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا محاصرہ کئے ہوئے تھے میں عمرہ کے ارادے سے نکلا اور میری قوم کے کئی لوگوں نے میرے ساتھ ہدی کے جانور بھی بھیجے، جب ہم اہل شام (مکہ کے محاصرین) کے قریب پہنچے تو انہوں نے ہمیں حرم میں داخل ہونے سے روک دیا، چنانچہ میں نے اسی جگہ اپنی ہدی نحر کر دی اور احرام کھول دیا اور لوٹ آیا، جب دوسرا سال ہوا تو میں اپنا عمرہ قضاء کرنے کے لیے نکلا، چنانچہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور میں نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ قضاء کے عمرہ میں حدیبیہ کے سال جس ہدی کی نحر کر لی تھی اس کا بدل دو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تھا کہ وہ عمرہ قضاء میں اس ہدی کا بدل دیں جو انہوں نے حدیبیہ کے سال نحر کی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1864]
1864. اردو حاشیہ: امام خطابی فرماتے ہیں۔کہ نفلی عمرے میں بدل ضروری نہیں۔البتہ واجب کئے ہوئے عمرے میں قربانی کا بدل ضروری ہوگا۔اور امام بہیقی ؒ کہتے ہیں کہ جس طرح دوبارہ عمرہ کرنا مستحب ہے اس طرح قربانی کابدل بھی مستحب ہے۔(عون المعبود]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1864 سے ماخوذ ہے۔