حدیث نمبر: 1861
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ ، زَادَ : " أَيُّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے` البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے «أى ذلك فعلت أجزأ عنك» ” اس میں سے تو جو بھی کر لو گے تمہارے لیے کافی ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1861
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, وھو في الموطأ (1/417)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : 1856، ( تحفة الأشراف: 11114) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´محرم کے فدیہ کا بیان۔`
اس سند سے بھی کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے «أى ذلك فعلت أجزأ عنك» اس میں سے تو جو بھی کر لو گے تمہارے لیے کافی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1861]
1861. اردو حاشیہ: ➊ قوم کے سربراہ اور کسی انجمن وجمیعت کے سربراہ کے لئے لازمی ہے کہ اپنے ساتھیوں کے شخصی احوال پر بھی نگاہ رکھے۔ نگہ بلند سخن دلنواز جاں پرسوز یہی ہے رخت سفر میر کارواں کےلیے اس باب کی احادیث سورہ بقرہ کی آیت کریمہ (196) (فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ) قرآن> کی تفسیر ہیں۔ اور جو تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو فدیہ دے یعنی روزے رکھے۔یا صدقہ کرے یا قربانی کرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1861 سے ماخوذ ہے۔