حدیث نمبر: 186
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالسُّوقِ دَاخِلًا مِنْ بَعْضِ الْعَالِيَةِ وَالنَّاسُ كَنَفَتَيْهِ ، فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ ، فَتَنَاوَلَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنَّ هَذَا لَهُ ؟ " وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے قریب کی بستیوں میں سے ایک بستی کی طرف سے داخل ہوتے ہوئے بازار سے گزرے ، اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے دائیں بائیں جانب ہو کر چل رہے تھے ، آپ چھوٹے کان والی بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے گزرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کان پکڑ کر اٹھایا ، پھر فرمایا : ” تم میں سے کون شخص اس کو لینا چاہے گا ؟ “ ، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ حلال جانوروں کے مردار کا چھونا جائز ہے، اور اس کے چھونے سے دوبارہ وضو کی حاجت نہیں۔ صحیح مسلم میں مکمل حدیث آئی ہے۔۔۔ پھر صحابہ نے کہا: ہم تو اسے نہیں لینا چاہتے اور اس کا ہم کریں گے بھی کیا؟ فرمایا: کیا تم اسے بلاقیمت لینا پسند کرتے ہو؟ کہنے لگے: قسم اللہ کی! اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو عیب دار تھا، اس کے کان ہی چھوٹے چھوٹے ہیں اور اب تو یہ ویسے ہی مردار ہے۔ آپ نے فرمایا: قسم اللہ کی! دنیا اللہ کے ہاں اس سے بھی زیادہ حقیر ہے، جتنا تم اس کو حقیر جان رہے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موقع بموقع پیش آمدہ حقائق کو تمثیلات سے سمجھاتے تھے اور اس واقعہ میں دنیا کی حقیقت کو نکھار دیا گیا ہے۔ داعی حضرات اور اساتذہ کو زندگی میں پیش آمدہ امور سے واقعاتی مثالیں پیش کرنی چاہییں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 186
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2957)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الزھد 1 (2957)، (تحفة الأشراف: 2601)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/365)، والبخاری فی الأدب المفرد (962) من حدیث جعفر (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2957

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موقع بموقع پیش آمدہ حقائق کو تمثیلات سے سمجھاتے تھے`
«. . . عَنْ جَابِرٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالسُّوقِ دَاخِلًا مِنْ بَعْضِ الْعَالِيَةِ وَالنَّاسُ كَنَفَتَيْهِ، فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ، فَتَنَاوَلَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنَّ هَذَا لَهُ؟ . . .»
. . . جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے قریب کی بستیوں میں سے ایک بستی کی طرف سے داخل ہوتے ہوئے بازار سے گزرے، اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے دائیں بائیں جانب ہو کر چل رہے تھے، آپ چھوٹے کان والی بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کان پکڑ کر اٹھایا، پھر فرمایا: تم میں سے کون شخص اس کو لینا چاہے گا؟ . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 186]
فوائد و مسائل:
➊ صحیح مسلم میں یہ حدیث مکمل اس طرح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کون چاہتا ہے کہ اس کو ایک درہم کے عوض لے؟ صحابہ نے کہا: ہم تو اسے نہیں لینا چاہتے اور اس کا ہم کریں گے بھی کیا؟ فرمایا: کیا تم اسے بلا قیمت لینا پسند کرتے ہو؟ کہنے لگے: قسم اللہ کی! اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو عیب دار تھا، اس کے کان ہی چھوٹے چھوٹے ہیں اور اب تو یہ ویسے ہی مردار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی! دنیا اللہ کے ہاں اس سے بھی زیادہ حقیر ہے، جتنا تم اس کو حقیر جان رہے ہو۔ [صحيح مسلم حديث: 2957]
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موقع بموقع پیش آمدہ حقائق کو تمثیلات سے سمجھاتے تھے اور اس واقعہ میں دنیا کی حقیقت کو نکھار دیا گیا ہے۔ داعی حضرات اور اساتذہ کو زندگی میں پیش آمدہ امور سے واقعاتی مثالیں پیش کرنی چاہئیں۔
➌ مردار کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ (محدثین کی فقاہت قابل داد ہے۔ رحمھما اللہ تعالیٰ)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 186 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2957 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ کی) کسی بالائی جانب سے داخل ہوتے ہوئے بازار سے گزرے،لوگ آپ کے پہلو میں(آپ کے ساتھ چل رہے) تھے۔آپ حقیر سے کانوں والے مرے ہوئے میمنے کے پاس سے گزرے،آپ نے اسے کان سے پکڑ کر اٹھایا،پھر فرمایا:تم میں سے کون اسے ایک درہم کے عوض لینا پسند کرے گا؟"توانھوں(صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا:ہمیں یہ کسی بھی چیز کے عوض لینا پسند نہیں،ہم اسے لے کر کیا کریں گے؟آپ نے فرمایا:"(پھر) کیا تم پسند کرتے ہو... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7418]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
اسك: جس کے کان چھوٹے یا کٹے ہوں، بوچا۔
فوائد ومسائل: جس طرح مردار اور بوچابچہ انسان کے نزدیک حقیر اور ذلیل ہے، اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر اور بے وقعت ہے، اس لیے دنیا کو اپنی طلب و فکر کا مرکز بنانے کی بجائے، ہمیں آخرت کو اپنی توجہ اور اہتمام کا مرکز بنانا چاہیے اور دنیا سے بقدر ضرورت ہی فائدہ اٹھانا چاہیے، دنیا کے سلسلہ میں افراط و تفریط کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2957 سے ماخوذ ہے۔