حدیث نمبر: 1859
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَخْبَرَهُ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، وَكَانَ قَدْ أَصَابَهُ فِي رَأْسِهِ أَذًى فَحَلَقَ ، " فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُهْدِيَ هَدْيًا بَقَرَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے` ( اور انہیں سر میں ( جوؤوں کی وجہ سے ) تکلیف پہنچی تھی تو انہوں نے سر منڈوا دیا تھا ) ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک گائے قربان کرنے کا حکم دیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1859
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف وقوله بقرة منكر , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, رجل من الأنصار مجھول, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 73
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : 1856، ( تحفة الأشراف: 11114) (ضعیف) (وقولہ : ’’بقرة‘‘ منکر) » (اس کا ایک راوی مجہول ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´محرم کے فدیہ کا بیان۔`
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (اور انہیں سر میں (جوؤوں کی وجہ سے) تکلیف پہنچی تھی تو انہوں نے سر منڈوا دیا تھا)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک گائے قربان کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1859]
1859. اردو حاشیہ: اس میں بقرۃ (ایک گائے) کا لفظ غیر محفوظ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1859 سے ماخوذ ہے۔