حدیث نمبر: 1855
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ جَابَانَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ كَعْبٍ ، قَالَ : " الْجَرَادُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ٹڈیاں سمندر کے شکار میں سے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1855
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, ميمون بن جابان وثقه العجلي وابن حبان والذهبي في الكاشف فحديثه لا ينزل عن درجة الحسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 14675، 19238) (ضعیف) » (اس کے راوی میمون ضعیف ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´محرم کے لیے ٹڈی کا شکار جائز ہے۔`
کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ٹڈیاں سمندر کے شکار میں سے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1855]
1855. اردو حاشیہ: ان میں سے پہلی روایت اور کعب احبار کے قول کو ہمارے فاضل محقق نے حسن قرار دیا ہے۔لیکن دیگر آئمہ کے نزدیک یہ تینوں روایات ضعیف ہیں۔میمون بن جابان کی توثیق مختلف فیہ ہے۔اس لئے ان کاضعیف ہونا ہی راحج ہے۔ خیال رہے کہ مشہور یہ ہے جیسا کہ موطا امام مالکرحمۃ اللہ علیہ میں کعب احبار رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول بیان کیا گیا ہے۔کہ ٹڈی د ر اصل مچھلیوں کی چھینک سے پیدا ہوتی ہے۔اورسال میں دو دفعہ ایسا ہوتا ہے۔ مگر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی یہ بات تسلیم نہیں کی۔اور راحج یہی ہے کہ یہ زمین کابری جانور ہے اور اس کےشکار میں فدیہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1855 سے ماخوذ ہے۔