سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب فِي الْجَرَادِ لِلْمُحْرِمِ باب: محرم کے لیے ٹڈی کا شکار جائز ہے۔
حدیث نمبر: 1854
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَصَبْنَا صِرْمًا مِنْ جَرَادٍ ، فَكَانَ رَجُلٌ مِنَّا يَضْرِبُ بِسَوْطِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ هَذَا لَا يَصْلُحُ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ " إِنَّمَا هُوَ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ " . سَمِعْت أَبَا دَاوُد ، يَقُولُ : أَبُو الْمُهَزِّمِ ضَعِيفٌ وَالْحَدِيثَانِ جَمِيعًا وَهْمٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہمیں ٹڈیوں کا ایک جھنڈ ملا ، ہم میں سے ایک شخص انہیں اپنے کوڑے سے مار رہا تھا ، اور وہ احرام باندھے ہوئے تھا تو اس سے کہا گیا کہ یہ درست نہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ” وہ تو سمندر کے شکار میں سے ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابومہزم ضعیف ہیں اور دونوں روایتیں راوی کا وہم ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 850 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´محرم کے لیے سمندر کے شکار کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے نکلے تھے کہ ہمارے سامنے ٹڈی کا ایک دل آ گیا، ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے کھاؤ، کیونکہ یہ سمندر کا شکار ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 850]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے نکلے تھے کہ ہمارے سامنے ٹڈی کا ایک دل آ گیا، ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے کھاؤ، کیونکہ یہ سمندر کا شکار ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 850]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابو المہزم ضعیف راوی ہے)
نوٹ:
(سند میں ابو المہزم ضعیف راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 850 سے ماخوذ ہے۔