حدیث نمبر: 1854
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَصَبْنَا صِرْمًا مِنْ جَرَادٍ ، فَكَانَ رَجُلٌ مِنَّا يَضْرِبُ بِسَوْطِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ هَذَا لَا يَصْلُحُ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ " إِنَّمَا هُوَ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ " . سَمِعْت أَبَا دَاوُد ، يَقُولُ : أَبُو الْمُهَزِّمِ ضَعِيفٌ وَالْحَدِيثَانِ جَمِيعًا وَهْمٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہمیں ٹڈیوں کا ایک جھنڈ ملا ، ہم میں سے ایک شخص انہیں اپنے کوڑے سے مار رہا تھا ، اور وہ احرام باندھے ہوئے تھا تو اس سے کہا گیا کہ یہ درست نہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ” وہ تو سمندر کے شکار میں سے ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابومہزم ضعیف ہیں اور دونوں روایتیں راوی کا وہم ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1854
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, ترمذي (850) ابن ماجه (3222), أبو المھزم : متروك (تق : 8397) وقال الھيثمي : وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 10 / 287), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 73
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الحج 27 (850)، سنن ابن ماجہ/الصید 9 (3222)، ( تحفة الأشراف: 14832)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/306، 364، 374، 407) (ضعیف جدا) » (اس کے راوی ابو المہزم ضعیف ہیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 850 | سنن ابي داود: 1853 | سنن ابن ماجه: 3222

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 850 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´محرم کے لیے سمندر کے شکار کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے نکلے تھے کہ ہمارے سامنے ٹڈی کا ایک دل آ گیا، ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کھاؤ، کیونکہ یہ سمندر کا شکار ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 850]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابو المہزم ضعیف راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 850 سے ماخوذ ہے۔