حدیث نمبر: 1853
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ جَابَانَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْجَرَادُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ٹڈیاں سمندر کے شکار میں سے ہیں ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی جس طرح سمندر کا شکار محرم کے لئے جائز ہے اسی طرح ٹڈی کا شکار بھی جائز ہے (مگر یہ حدیث ضعیف ہے)۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1853
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (2701), ميمون بن جابان وثقه العجلي وابن حبان والذهبي في الكاشف فحديثه لا ينزل عن درجة الحسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 14675، 19238) (ضعیف) » (اس کے راوی میمون لین الحدیث ہیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 850 | سنن ابي داود: 1854 | سنن ابن ماجه: 3222

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 850 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´محرم کے لیے سمندر کے شکار کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے نکلے تھے کہ ہمارے سامنے ٹڈی کا ایک دل آ گیا، ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کھاؤ، کیونکہ یہ سمندر کا شکار ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 850]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابو المہزم ضعیف راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 850 سے ماخوذ ہے۔