سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب لَحْمِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ باب: محرم کے لیے شکار کا گوشت کھانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 1850
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ إِلَيْهِ عَضُوُ صَيْدٍ فَلَمْ يَقْبَلْهُ ؟ وَقَالَ : " إِنَّا حُرُمٌ " ، قَالَ : نَعَمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا : زید بن ارقم ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار کا دست ہدیہ دیا گیا تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا ، اور فرمایا : ” ہم احرام باندھے ہوئے ہیں ؟ “ ، انہوں نے جواب دیا : ہاں ( معلوم ہے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2823 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کس طرح کا شکار کھانا محرم کے لیے ناجائز ہے؟`
عطاء سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کو معلوم نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شکار کا کوئی عضو ہدیہ بھیجا گیا، اور آپ محرم تھے تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا، انہوں نے کہا: جی ہاں، (ہمیں معلوم ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2823]
عطاء سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کو معلوم نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی شکار کا کوئی عضو ہدیہ بھیجا گیا، اور آپ محرم تھے تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا، انہوں نے کہا: جی ہاں، (ہمیں معلوم ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2823]
اردو حاشہ: یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ وہ جانور زندہ آپ کی خدمت میں پیش نہیں کیا گیا تھا بلکہ ذبح شدہ جانور کا ٹکڑا پیش کیا گیا تھا۔ احناف کہتے ہیں کہ آپ نے اس لیے واپس فرما دیا کہ اس نے زندہ شکار پیش کیا تھا۔ اور ذبح کرنا محرم کے لیے جائز نہیں تھا، حالانکہ اگر یہی بات ہوتی تو آپ فرما سکتے تھے کہ تم ذبح کر کے لاؤ۔ اس روایت سے احناف کی تردید ہوتی ہے۔ صحیح بات حدیث نمبر 2821 میں گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2823 سے ماخوذ ہے۔