حدیث نمبر: 1843
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ابْنِ أَخِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ حَلَالَانِ بِسَرِفَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا ، اور ہم اس وقت مقام سرف میں حلال تھے ( یعنی احرام نہیں باندھے تھے ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1843
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1411)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/النکاح 5 (1411)، سنن الترمذی/الحج 24 (845)، سنن النسائی/ الکبری/ النکاح (5404)، سنن ابن ماجہ/النکاح 45 (1964)، (تحفة الأشراف: 18082)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/332، 333، 335)، سنن الدارمی/ المناسک 21 (1865) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1411 | سنن ترمذي: 845 | سنن ابن ماجه: 1964

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´محرم شادی کرے تو کیسا ہے؟`
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا، اور ہم اس وقت مقام سرف میں حلال تھے (یعنی احرام نہیں باندھے تھے)۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1843]
1843. اردو حاشیہ: حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا (بنت حارث الحلالیہ)کے ساتھ رسول اللہﷺ کا نکاح سات ہجری میں عمرۃ القضاء کے موقع پر ہوا تھا۔ ان کے پہلے شوہر کا نام ابو رہم بن عبد العزی تھا۔حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس نکاح کا پیغام بھیجا۔انہوں نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اپنی ر ضا مندی کا اظہار کیا تو انہوں نے نکاح کردیا۔(الاصابہ]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1843 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1411 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حلال تھے، یزید بن الاصم کہتے ہیں کہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، میری اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں کی خالہ ہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3453]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح عمرۃ القضاء7ھ میں کیا ہے، ظاہر ہے اس عمرہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور یزید بن الاصم میں سے کوئی بھی نہ تھا، اس لیے دونوں نے کسی دوسرے سے سنا ہے، یزید بن الاصم براہ راست حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ، آپ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےشادی حلال ہونے کی حالت میں کی، اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اگرچہ یزید سے علم و فضل اور مقام و مرتبہ کے اعتبار سے بہت بلند ہیں لیکن یہ کوئی فکری یا نظری یا استنباطی چیز نہیں ہے جس میں علم وجہ ترجیح بن سکے، یہ تو ایک بات یا واقعہ کو یاد رکھنا ہے جس کو بسا اوقات ایک جاہل زیادہ یاد رکھتا ہے، نیز حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے پیغام رساں ابو رافع بھی یزید بن الاصم کی تائید کرتے ہیں اور اگر عمروبن دینار نے یزید بن الاصم پر (أَعرَابِي بَوَّال عَلٰى عَقَبَيه)
(کہ وہ جنگلی تھا اور اپنی ایڑھیوں پر پیشاب کرتا تھا)
کی پھبتی کسی ہے تو یہ بلا محل ہے، کیونکہ جیسا کہ ہم بتا چکے واقعہ یاد رکھنے میں جنگلی عالم پر فائق ہو سکتا ہے، نیز سعید بن المسیب سعید التابعین نے اس کے مقابلہ میں یہ کہا ہے جبکہ میمونہ جو صاحب واقعہ ہیں خود یہ فرماتی ہیں کہ میرے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی حلال ہونے کی حالت میں کی، تو پھر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول وہم پر محمول ہوگا۔
(سبل السلام ج3ص170۔
جمعیہ احیاء التراث الاسلامی)
مزید برآں اگر بالفرض حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کو ترجیح دی جائے تو یہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کے جو قولی ہے معارض ہے اور احناف کا اصول ہے قول اور فعل میں تعارض ہو تو قول کو ترجیح دی جائے گی، بقول شاہ ولی اللہ فعل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہو گا یا فعل قول سے منسوخ ہو گا۔
(حجۃ اللہ البالغہ ج1ص128)
۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1411 سے ماخوذ ہے۔