سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب الْمُحْرِمِ يَتَزَوَّجُ باب: محرم شادی کرے تو کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ أَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ يَسْأَلُهُ وَ أَبَانُ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْحَاجِّ وَهُمَا مُحْرِمَانِ : إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُنْكِحَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ ابْنَةَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ ، فَأَرَدْتُ أَنْ تَحْضُرَ ذَلِكَ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَبَانُ ، وَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ أَبِي عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يُنْكِحُ " .
´نبیہ بن وہب جو بنی عبدالدار کے فرد ہیں سے روایت ہے کہ` عمر بن عبیداللہ نے انہیں ابان بن عثمان بن عفان کے پاس بھیجا ، ابان اس وقت امیر الحج تھے ، وہ دونوں محرم تھے ، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں طلحہ بن عمر کا شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے نکاح کر دوں ، میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اس میں شریک رہو ، ابان نے اس پر انکار کیا اور کہا کہ میں نے اپنے والد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” محرم نہ خود نکاح کرے اور نہ کسی دوسرے کا نکاح کرائے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " محرم نہ تو اپنا نکاح کرے، اور نہ دوسرے کا نکاح کرائے، اور نہ ہی شادی کا پیغام دے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1966]
فوائد و مسائل:
(1)
احرام کی حالت میں نکاح کرنا جائز نہیں۔
(2)
احرام والا آدمی خود شادی کرسکتا ہے، نہ کسی کے نکاح میں وکیل بن سکتا ہے۔
اپنی کسی بیٹی بہن وغیرہ کا سرپرست بن کر اس کا نکاح بھی نہیں کرسکتا-
(3)
احرام کی حالت میں کسی سے نکاح کی بات چیت بھی نہیں چلانی چاہیے۔
اگر کوئی غلطی کرے اور پیغام بھیج دے تو اسے جواب نہ دیا جائے۔
(4)
احرام حج کا ہو یاعمرہ کا ایک ہی حکم ہے-
(5)
احرام والی عورت کا نکاح بھی نہ کیا جائے، اور نہ اس کے لیے پیغام بھیجا جائے۔
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " محرم نہ اپنا نکاح کرے، نہ شادی کا پیغام بھیجے اور نہ ہی کسی دوسرے کا نکاح کرائے۔" [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2845]
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر نے ابان بن عثمان کے پاس کسی کو یہ سوال کرنے کے لیے بھیجا کہ کیا محرم نکاح کر سکتا ہے؟ تو ابان نے کہا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " محرم نہ نکاح کرے، اور نہ نکاح کا پیغام بھیجے۔" [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2847]
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " محرم نہ اپنا نکاح کرے، نہ کسی کا کرائے، اور نہ ہی کہیں نکاح کا پیغام دے۔" [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3278]
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " احرام والا نکاح نہ کرے اور نہ نکاح کرائے اور نہ منگنی کرے۔ " (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 598]
«لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ» یعنی خود نکاح نہ کرے۔
«وَلَا يُنْكِحُ» یہ «اِنكاح» سے ماخوذ ہے۔ نہ کسی دوسرے کا نکاح کرے۔
«وَلَاَ يَخْطُبُ» یہ «خِطْبَةَ» ("خا" مکسور) سے مشتق ہے، یعنی نہ منگنی کرے۔ نکاح کے لیے کسی عورت کا مطالبہ نہ کرے۔
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ احرام کی حالت میں خود نکاح کرنا، کسی کا نکاح کرنا، کسی کو اپنے لیے یا کسی اور کے لیے شادی کا پیغام دینا ناجائز ہے۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جو یہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے حالت احرام میں نکاح کیا تھا تو یہ محض وہم ہے۔ اور اس وہم کی بنیاد غالباً یہ ہے کہ یہ کام احرام سے فارغ ہوتے ہی ہو گیا تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ویسے بھی اس وقت چھوٹے بچے تھے، اس لیے انہوں سمجھا کہ یہ نکاح حالت احرام میں ہو گیا تھا، نیز حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا خود بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے مقام سرف میں نکاح کیا تھا اور ہم دونوں حلال تھے دیکھیے: [صحيح مسلم، النكاح، حديث: 1411]
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے زادالمعاد میں اس پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
اس حدیث میں حالت احرام میں منگنی اور نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ حکم مطلقاً ہے کہ کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے، کیونکہ حالت احرام ایک مخصوص عبادت کے ساتھ خاص ہے اور اس حالت میں بیوی بھی حرام ہو جاتی ہے، یعنی اس سے جماع کرنا حرام ہو جاتا ہے۔ جب صورت حال یہاں تک ہے تو اس حالت میں نئی شادی کرنا کیونکر درست ہوسکتا ہے، اور ان امور سے انسان دیگر کاموں میں مشغول ہو جا تا ہے۔ جس مقصد کے لیے سفر کیا تھا، اس میں کمی واقع ہو جاتی ہے، اس لیے حالت احرام میں شادی یا منگنی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
تنبيه ...... بعض احادیث میں آتا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: «أن النبى تزوج ميمونة وهو محرم» " بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں تھے "۔ (صحیح البخاری: 4258)
اس حدیث کے متعلق عرض ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو وہم لاحق ہوا ہے۔ انھوں نے حالت احرام میں نکاح کو نقل کر دیا ہے، حالانکہ صاحب واقعہ اپنے واقعہ کو دوسروں سے زیادہ جانتا ہوتا ہے۔ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا خود بیان فرماتی ہیں کہ «تزوجني رسول الله ونحن حلالان بسرف» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے مقام سرف میں نکاح کیا تھا اور ہم دونوں حلال تھے۔ (صحیـح مـسـلـم: 1411) یہ بھی یادر ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح سات ہجری میں عمرۃ القناۃ کے موقع پر ہوا تھا۔