سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب يَكْتَحِلُ الْمُحْرِمُ باب: محرم سرمہ لگائے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 1839
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی نبیہ بن وہب سے` یہی حدیث مروی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´محرم سرمہ لگائے تو کیسا ہے؟`
اس سند سے بھی نبیہ بن وہب سے یہی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1839]
اس سند سے بھی نبیہ بن وہب سے یہی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1839]
1839. اردو حاشیہ: آنکھ میں وہ اڈالنے یا اس پر ضماد کرنے سے احرام میں کوئی خرابی نہیں آتی۔اسی طرح سادہ سُرمہ ڈالنا بھی جائز ہے۔جس میں خوشبو نہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1839 سے ماخوذ ہے۔