حدیث نمبر: 1828
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ وَجَدَ الْقُرَّ ، فَقَالَ : " أَلْقِ عَلَيَّ ثَوْبًا يَا نَافِعُ ، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا ، فَقَالَ : تُلْقِي عَلَيَّ هَذَا وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهُ الْمُحْرِمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´نافع کہتے ہیں کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سردی محسوس کی تو انہوں نے کہا : نافع ! میرے اوپر کپڑا ڈال دو ، میں نے ان پر برنس ڈال دی ، تو انہوں نے کہا : تم میرے اوپر یہ ڈال رہے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو اس کے پہننے سے منع فرمایا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1828
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (2692), أخرجه الحميدي (696 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 7585)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/141، 148) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´محرم کون کون سے کپڑے پہن سکتا ہے؟`
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سردی محسوس کی تو انہوں نے کہا: نافع! میرے اوپر کپڑا ڈال دو، میں نے ان پر برنس ڈال دی، تو انہوں نے کہا: تم میرے اوپر یہ ڈال رہے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو اس کے پہننے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1828]
1828. اردو حاشیہ: بزنس باقاعدہ پہننا منع ہے ویسے اوڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں مگر حضرت ابن عمر کا تقوی اور جذبہ اتباع رسول ﷺ اس قدر شدید تھا کہ انہوں نے اسے عام صورت میں بھی اوڑھنے سے گزیر کا اظہار فرمایا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1828 سے ماخوذ ہے۔