حدیث نمبر: 1824
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ،عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے` اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1824
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1542) صحيح مسلم (1177)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/ الحج 18 (1539)، صحیح مسلم/الحج 1 (1177)، سنن النسائی/ الحج 30 (2670)، سنن ابن ماجہ/ المناسک 19 (2929)، (2932)، ( تحفة الأشراف: 8325)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 3 (8)، مسند احمد (2/63)، دی/ المناسک 9 (1839) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´محرم کون کون سے کپڑے پہن سکتا ہے؟`
اس سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1824]
1824. اردو حاشیہ: ➊ عورت کے لیے احرام کی چادریں پہننا ضروری نہیں۔ بلکہ وہ شلوار قمیص اور دو پٹے اور پردے ہی میں احرام باندھے گی۔ البتہ خوشبو وہ بھی استعمال نہیں کر سکتی بالخصوص ورس اور زعفران۔اسی طرح دستانے بھی نہیں پہن سکتی۔البتہ جرابیں یا موزے نہ صرف یہ کہ وہ پہن سکتی ہیں بلکہ ان کا پہنا ان کے لیے بہتر ہے کیونکہ ان میں زیادہ پردہ ہے۔
➋ مردوں کے لیے صحیح قول کےمطابق موزوں کا پہننا بھی جائز ہےخواہ وہ کٹے ہوئے نہ بھی ہوں۔جبکہ جمہور کی رائے یہ ہے کہ انہیں کاٹ لے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ جب جوتے نہ ہوں تو موزوں کا کاٹنا لازم نہیں ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو عرفہ میں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا: جس کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ موزے پہن لے اور جس کے پاس تہبند نہ ہو تو وہ شلوار پہن لے۔ (صحیح البخاری جزاء الصید حدیث:1841 وصحیح مسلم الحج حدیث:1178) اس حدیث میں آپ نے موزے کاٹنے کا حکم نہیں دیا تو اس سے معلوم ہوا کہ جس حدیث میں موزے کاٹنے کاحکم ہے وہ ابتدائے احرام کاتھا اور دوسرا حکم عرفہ کے دن کا ہے۔اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ کاٹنے کا حکم منسوخ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1824 سے ماخوذ ہے۔