سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب الرَّجُلِ يُحْرِمُ فِي ثِيَابِهِ باب: آدمی سلے ہوئے کپڑے میں احرام باندھ لے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1821
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمَدَانِيُّ الرَّمْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ فِيهِ : " فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْزِعَهَا نَزْعًا وَيَغْتَسِلَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا " وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی یعلیٰ بن منیہ ۱؎ سے یہی حدیث مروی ہے` البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں : «فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينزعها نزعا ويغتسل مرتين أو ثلاثا» یعنی ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے اتار دے اور غسل کرے دو بار یا تین بار آپ نے فرمایا ” پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔
وضاحت:
۱؎: منیہ یعلیٰ کی والدہ ہیں ان کے والد کا نام امیّہ ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی سلے ہوئے کپڑے میں احرام باندھ لے تو اس کے حکم کا بیان۔`
اس سند سے بھی یعلیٰ بن منیہ ۱؎ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: «فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينزعها نزعا ويغتسل مرتين أو ثلاثا» یعنی ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے اتار دے اور غسل کرے دو بار یا تین بار آپ نے فرمایا ” پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1821]
اس سند سے بھی یعلیٰ بن منیہ ۱؎ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: «فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينزعها نزعا ويغتسل مرتين أو ثلاثا» یعنی ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے اتار دے اور غسل کرے دو بار یا تین بار آپ نے فرمایا ” پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1821]
1821. اردو حاشیہ: ➊ راوی حدیث وہی تعالیٰ ہیں جن کی روایات اوپر آئی ہیں۔ ان کےوالد کانام امیہ اور والدہ کا نام منیہ ہے۔
➋ شریعت کا حکم جان لینے کے بعد اس میں پس وپیش کا کوئی مطلب نہیں۔
➌ بھولے سے مذکورہ غلطیوں پر فدیہ لازم نہیں آتا۔
➋ شریعت کا حکم جان لینے کے بعد اس میں پس وپیش کا کوئی مطلب نہیں۔
➌ بھولے سے مذکورہ غلطیوں پر فدیہ لازم نہیں آتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1821 سے ماخوذ ہے۔