حدیث نمبر: 1821
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمَدَانِيُّ الرَّمْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ فِيهِ : " فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْزِعَهَا نَزْعًا وَيَغْتَسِلَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا " وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی یعلیٰ بن منیہ ۱؎ سے یہی حدیث مروی ہے` البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں : «فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينزعها نزعا ويغتسل مرتين أو ثلاثا» یعنی ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے اتار دے اور غسل کرے دو بار یا تین بار آپ نے فرمایا ” پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔

وضاحت:
۱؎: منیہ یعلیٰ کی والدہ ہیں ان کے والد کا نام امیّہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1821
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم: (1819)، ( تحفة الأشراف: 11836) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی سلے ہوئے کپڑے میں احرام باندھ لے تو اس کے حکم کا بیان۔`
اس سند سے بھی یعلیٰ بن منیہ ۱؎ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: «فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينزعها نزعا ويغتسل مرتين أو ثلاثا» یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے اتار دے اور غسل کرے دو بار یا تین بار آپ نے فرمایا پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1821]
1821. اردو حاشیہ: ➊ راوی حدیث وہی تعالیٰ ہیں جن کی روایات اوپر آئی ہیں۔ ان کےوالد کانام امیہ اور والدہ کا نام منیہ ہے۔
➋ شریعت کا حکم جان لینے کے بعد اس میں پس وپیش کا کوئی مطلب نہیں۔
➌ بھولے سے مذکورہ غلطیوں پر فدیہ لازم نہیں آتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1821 سے ماخوذ ہے۔