حدیث نمبر: 1820
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، وَهُشيْمٌ ، عَنْ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ فِيهِ : فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْلَعْ جُبَّتَكَ " ، فَخَلَعَهَا مِنْ رَأْسِهِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی یعلیٰ سے یہی قصہ مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ` اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنا جبہ اتار دو “ ، چنانچہ اس نے اپنے سر کی طرف سے اسے اتار دیا ، اور پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1820
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون قوله ومن رأسه فإنه منكر , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عطاء عن يعلي منقطع, والحجاج بن أرطاة ضعيف مدلس (الفتح المبين في تحقيق طبقات المدلسين ص 70 وتحفة الأقوياء :75) و قال النووي : ضعيف عند الجمھور (المجموع شرح المھذب 1/ 274) و قال ابن حجر : فإن الأكثر علي تضعيفه (التلخيص الحبير 2/ 226 ح 962), و الحديث السابق (الأصل : 1819) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 72
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، سنن الترمذی/الحج 20 (835) سنن النسائی/الکبری/ فضائل القرآن (7981)، (من 1820 حتی 1822)، ( تحفة الأشراف: 11836، 11844)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/224) (صحیح) » (حدیث میں واقع یہ لفظ «من رأسه» منکر ہے) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 6؍ 84)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی سلے ہوئے کپڑے میں احرام باندھ لے تو اس کے حکم کا بیان۔`
اس سند سے بھی یعلیٰ سے یہی قصہ مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا جبہ اتار دو ، چنانچہ اس نے اپنے سر کی طرف سے اسے اتار دیا، اور پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1820]
1820. اردو حاشیہ: شیخ البانی فرماتے ہیں کہ یہ روایت صحیح ہےالبتہ «من راسه» اس نےاسے اپنے سر کی طرف سے اتاراکے الفاظ منکر ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1820 سے ماخوذ ہے۔