حدیث نمبر: 1817
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُلَبِّي الْمُعْتَمِرُ حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، وَ هَمَّامٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مَوْقُوفًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمرہ کرنے والا حجر اسود کا استلام کرنے تک لبیک پکارے “ ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے عبدالملک بن ابی سلیمان اور ہمام نے عطاء سے ، عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یہ حدیث سندا ضعیف ہے، مگر بہت سارے علماء کا یہی قول ہے، بعض لوگ کہتے ہیں: مکہ کے مکانات پر نظر پڑتے ہی تلبیہ بند کر دے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ خانہ کعبہ پر نظر پڑتے ہی تلبیہ بند کر دے، اور یہ دعا پڑھے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام الخ» ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1817
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (919), محمد بن أبي ليلي ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 71
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الحج 79 (919)، ( تحفة الأشراف: 5912) موقوفًا، و (5958) (ضعیف) (اس کے راوی’’محمد بن أبی لیلی‘‘ ضعیف ہیں) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 919

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عمرہ کرنے والا تلبیہ کب بند کرے؟`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمرہ کرنے والا حجر اسود کا استلام کرنے تک لبیک پکارے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالملک بن ابی سلیمان اور ہمام نے عطاء سے، عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1817]
1817. اردو حاشیہ: یہ روایت مرفوع نہیں موقوف ہی صحیح ہےاو رحکم اور عمل اسی پر ہے کہ عمرہ میں حجر اسود کا استلام کرنے تک تلبیہ ہے اس کےبعد نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1817 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 919 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´عمرہ میں تلبیہ پکارنا کب بند کیا جائے؟`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ میں تلبیہ پکارنا اس وقت بند کرتے جب حجر اسود کا استلام کر لیتے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 919]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 919 سے ماخوذ ہے۔