حدیث نمبر: 1808
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةٌ ، أَوْ لِمَنْ بَعْدَنَا ؟ قَالَ : " بَلْ لَكُمْ خَاصَّةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! حج کا ( عمرے کے ذریعے ) فسخ کرنا ہمارے لیے خاص ہے یا ہمارے بعد والوں کے لیے بھی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلکہ یہ تمہارے لیے خاص ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1808
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه ابن ماجه (2984 وسنده حسن) الحارث بن بلال حسن الحديث وثقه الحاكم والذهبي وابن الجارود
تخریج حدیث « سنن النسائی/الحج 77 (2810)، سنن ابن ماجہ/المناسک 42 (2984)، ( تحفة الأشراف: 2027)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/369)، سنن الدارمی/المناسک 37 (1897) (ضعیف) » (اس کے راوی حارث لین الحدیث ہیں، اور ان کی یہ روایت صحیح روایات کے خلاف ہے، اس لئے منکر ہے)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2810 | سنن ابن ماجه: 2984

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی حج کا احرام باندھے پھر اسے عمرہ میں بدل دے اس کے حکم کا بیان۔`
بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کا (عمرے کے ذریعے) فسخ کرنا ہمارے لیے خاص ہے یا ہمارے بعد والوں کے لیے بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ یہ تمہارے لیے خاص ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1808]
1808. اردو حاشیہ: یہ حدیث ضعیف ہے،اس لئے قابل استدلال نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1808 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2810 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جو شخص ہدی ساتھ نہ لے جائے وہ حج عمرہ میں تبدیل کر کے احرام کھول سکتا ہے۔`
بلال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج کو عمرہ میں تبدیل کر دینا صرف ہمارے ساتھ خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ ہم لوگوں کے لیے خاص ہے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2810]
اردو حاشہ: یہ روایت سنداً ضعیف ہے، لہٰذا حجت نہیں ہے۔ اس کے برعکس وہ موقف درست ہے جو سابقہ صحیح احادیث: 2808، 2809 میں بیان ہوا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2810 سے ماخوذ ہے۔