حدیث نمبر: 1793
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو عِيسَى الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمسَيِّبِ ، " أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَشَهِدَ عِنْدَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ يَنْهَى عَنْ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے ایک شخص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے ان کے پاس گواہی دی کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الموت میں حج سے پہلے عمرہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1793
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث الآتي (2372) والموطأ (590 بتحقيقي)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 15582) (ضعیف) » (سعید بن مسیب کا سماع عمر فاروق سے ثابت نہیں، نیز یہ حدیث صحیح احادیث کے خلاف ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´حج افراد کا بیان۔`
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے ایک شخص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے ان کے پاس گواہی دی کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الموت میں حج سے پہلے عمرہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1793]
1793. اردو حاشیہ: امام منذری کہتے ہیں کہ سعید بن مسیب کا حضرت عمر سے سماع صحیح ثابت نہیں ہے۔ (عون) اس لیے یہ روایت صحیح نہیں۔لیکن ہمارے محقق شیخ زبیر علی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ اس اعتبار سے اس میں نہی استحباب کے لیے ہوگی اور اس سے مطلب یہ ہوگا کہ استطاعت ہونے پر پہلے حج کیا جائے کیونکہ وہ بڑا فریضہ ہے اور زیاد ہ اہم ہے۔ ورنہ خود نبی ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے اپنے حج سے پہلے دوعمرے کیے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1793 سے ماخوذ ہے۔