سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب فِي إِفْرَادِ الْحَجِّ باب: حج افراد کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ شَوْكَرٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، قَالَ ابْنُ مَنِيعٍ : أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْمَعْنَى ،عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ ، فَلَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ " ، وَقَالَ ابْنُ شَوْكَرٍ : " وَلَمْ يُقَصِّرْ " ، ثُمَّ اتَّفَقَا ، " وَلَمْ يُحِلَّ مِنْ أَجْلِ الْهَدْيِ ، وَأَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَطُوفَ وَأَنْ يَسْعَى وَيُقَصِّرَ ثُمَّ يُحِلَّ " ، زَادَ ابْنُ مَنِيعٍ فِي حَدِيثِهِ : " أَوْ يَحْلِقَ ثُمَّ يُحِلَّ " .
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا جب آپ ( مکہ ) آئے تو آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی ( ابن شوکر کی روایت میں ہے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال نہیں کتروائے ( پھر ابن شوکر اور ابن منیع دونوں کی روایتیں متفق ہیں کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کی وجہ سے احرام نہیں کھولا ، اور حکم دیا کہ جو ہدی لے کر نہ آیا ہو طواف اور سعی کر لے اور بال کتروا لے پھر احرام کھول دے ، ( ابن منیع کی حدیث میں اتنا اضافہ ہے ) : یا سر منڈوا لے پھر احرام کھول دے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
حج کے احرام کے لیے مقرر ہ مہینے شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے پہلے نو دن ہیں۔
ان کے علاوہ دنوں میں عمرے کا احرام تو باندھا جا سکتا ہے لیکن حج کا احرام نہیں باندھا جا سکتا۔
2۔
دور جاہلیت میں لوگ حج کے مہینوں میں عمرے کا احرام باندھنا بہت بڑا گناہ سمجھتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس رسم بد کو ختم کرنے کے لیے ان دنوں میں حج کے احرام کو عمرے کے احرام میں تبدیل کرنے کا حکم دیا۔
3۔
اہل جاہلیت کا طریقہ تھا کہ دوران حج میں استعمال ہونے والے اونٹوں کے زخم اچھے ہو جائیں تو پھر عمرہ کرنا چاہیے اور ان زخموں کے نشانات ماہ صفر گزر جانے کے بعد مٹتے تھے اس سے پہلے وہ عمرہ کرنے کو جائز نہیں سمجھتے تھے اس کے لیے مہینوں میں تقدیم و تاخیر بھی کرتے تھے اس ناروا زیادتی کو ختم کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے مذکورہ ہدایت فرمائی عمرے سے فراغت کے بعد فرمایا: احرام کے باعث جو چیز یں تم پر حرام ہوئی تھی وہ سب حلال ہیں۔
مشرکین کی تردید کے لیے آپ نے ان دنوں عمرے کا احرام باندھنے کا حکم دیا۔
4۔
بہر حال دور جاہلیت کے جو کام قابل اصلاح تھے ان کی اصلاح کرنے کے بعد انھیں برقرار رکھا گیا۔
انھیں یکسرختم نہیں کیا البتہ جو کام اللہ سے بغاوت پر مبنی تھے انھیں یکسر ختم کردیا گیا مثلاً: لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا اور سود لینا دینا وغیرہ۔
واللہ اعلم۔
جاہلیت کے زمانہ سے ان کا یہ اعتقاد چلا آتا تھا کہ حج کے دنوں میں عمرہ کرنا بڑا گناہ ہے، اسی وجہ سے آپ کا یہ حکم ان پر گراں گزرا۔
ایمان افروز تقریر! حدیث ہذا کے ذیل حضرت مولانا وحید الزمان صاحب مرحوم نے ایک ایمان افروز تقریر حوالہ قرطاس فرمائی ہے جو اہل بصیرت کے مطالعہ کے قابل ہے۔
صحابہ کرام نے کہا یا رسول اللہ أي الحل قال حل کله یعنی یا رسول اللہ! عمرہ کرکے ہم کو کیا چیز حلال ہوگی۔
آپ نے فرمایا سب چیزیں یعنی جتنی چیزیں احرام میں منع تھیں وہ سب درست ہوجائیں گی۔
انہوں نے یہ خیال کیا کہ شاید عورتوں سے جماع درست نہ ہو۔
جیسے رمی اور حلق اور قربانی کے بعد سب چیزیں درست ہوجاتی ہیں لیکن جماع درست نہیں ہوتا جب تک طواف الزیارۃ نہ کرے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نہیں عورتیں بھی درست ہوجائیں گی۔
دوسری روایت میں ہے کہ بعضے صحابہ کو اس میں تامل ہوا اور ان میں سے بعضوں نے یہ بھی کہا کہ کیا ہم حج کو اس حال میں جائیں کہ ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہو۔
آنحضرت ﷺ کو ان کا یہ حال دیکھ کر سخت ملال ہوا کہ میں حکم دیتا ہوں اور یہ اس کی تعمیل میں تامل کرتے ہیں اور چہ میگوئیاں نکالتے ہیں۔
لیکن جو صحابہ قوی الایمان تھے انہوں نے فوراً آنحضرت ﷺ کے ارشاد پر عمل کیا اور عمرہ کرکے احرام کھول ڈالا۔
پیغمبر ﷺ جو کچھ حکم دیں وہیں اللہ کا حکم ہے اور یہ ساری محنت اور مشقت اٹھانے سے غرض کیا ہے۔
اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی۔
عمرہ کرکے احرام کھول ڈالنا تو کیا چیز ہے۔
آپ جو بھی حکم فرمائیں اس کی تعمیل ہمارے لیے عین سعادت ہے۔
جو حکم آپ دیں اسی میں اللہ کی مرضی ہے گو سارا زمانہ اس کے خلاف بکتا رہے۔
ان کا قول اور خیال ان کو مبارک رہے۔
ہم کو مرتے ہی اپنے پیغمبر ﷺ کے ساتھ رہنا ہے۔
اگر بالفرض دوسرے مجتہد یا امام یا پیرومرشد درویش قطب پیغمبر ؑ کی پیروی کرنے میں ہم سے خفا ہوجائیں تو ہم کو ان کی خفگی کی ذرا بھی پرواہ نہیں ہے۔
ہم کو قیامت میں ہمارے پیغمبر کا سایہ عاطفت بس کرتا ہے۔
سارے ولی اور درویش اور غوث اور قطب اور مجتہد اور امام اس بارگاہ کے ایک ادنیٰ کفش بردار ہیں۔
کفش برداروں کو راضی رکھیں یا اپنے سردار کو اللهم صل علی محمد وعلی آل محمد وعلی أصحابه وارزقنا شفاعته یوم القیامة واحشرنا في زمرة أتباعه وثبتنا علی متابعته والعمل بسنته امین۔
(1)
دورِ جاہلیت میں جنگل کا قانون رائج تھا۔
ہر طرف تحکم اور سینہ زوری تھی۔
اپنی مرضی کو قانون کا درجہ دے لیتے تھے۔
ان کالے قوانین میں ایک قانون یہ تھا کہ وہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو بدترین گناہ خیال کرتے تھے، پھر اپنی مرضی سے مہینوں کو آگے پیچھے بھی کرتے، مثلا: محرم کو صفر قرار دے کر اس میں لوٹ مار کا بازار گرم کرتے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے دور جاہلیت کی اندھیر نگری کو آغاز حدیث میں بیان کیا ہے۔
وہ کہتے تھے کہ حج کے بعد عمرہ کرنے کے لیے اتنا وقفہ ہونا چاہیے کہ حج پر کٹے ہوئے اونٹوں کے زخم درست ہو جائیں اور زخموں كے نشانات مٹ کر ان پر اون وغیرہ آ جائے اور صفر کا مہینہ گزر جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کو اسی عقیدے کی تردید کے لیے ماہ ذوالحجہ میں عمرہ کرایا تھا، چنانچہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کو ماہ ذوالحجہ میں عمرہ کرنے کا حکم اس لیے دیا تھا کہ قریش اور ان کے مسلک پر چلنے والوں کے اس عقیدے کی تردید ہو کہ اس مہینے میں عمرہ کرنا گناہ ہے۔
(صحیح ابن حبان: 31/7) (2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ ؓ نے صحابہ کرام ؓ کو حج کا احرام عمرے میں تبدیل کرنے کا حکم دیا۔
اس سے مقصود بھی دور جاہلیت میں رائج اعتقاد فاسد کی تردید تھا۔
چونکہ حج میں دو قسم کی حلت تھی: ایک حلت صغریٰ کہ دسویں تاریخ کو رمی کرنے کے بعد آدمی محدود پیمانے پر احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو جاتا تھا، یعنی بیوی سے جماع کے علاوہ ہر قسم کی پابندی سے آزاد ہو جاتا، دوسری حلت کبریٰ، طواف افاضہ کرنے کے بعد حاصل ہوتی کہ اس میں بیوی سے جماع بھی کیا جا سکتا تھا۔
جب رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام کو حج کا احرام ختم کر کے عمرے کا احرام باندھنے کے متعلق حکم دیا تو انہوں نے سوال کیا کہ عمرے سے فراغت کے بعد کس قسم کی حلت سے واسطہ پڑے گا؟ آپ نے وضاحت فرمائی کہ فراغت کے بعد تمہارے لیے ہر چیز حلال ہو گئی حتی کہ تم اپنی بیویوں سے جماع بھی کر سکو گے۔
چونکہ صحابہ کرام ؓ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے سے مانوس نہ تھے، اس لیے انہیں وقتی طور پر یہ بات بہت گراں محسوس ہوئی۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان کو اختیار ہے، خواہ حلق کرے یا قصر لیکن اس میں تفصیل ہے: اگر حج سے اتنا عرصہ پہلے عمرہ کیا کہ حج کے وقت دسویں تاریخ کو بال دوبارہ اُگ آئیں تو اس کے لیے حلق بہتر ہے۔
اگر بال اُگنے کا امکان نہ ہو تو بال چھوٹے کرا دے تاکہ حج کا موقع پر دسویں تاریخ کو حلق ہو سکے۔
(فتح الباري: 715/3)
واللہ أعلم۔
(2)
اس بات پر اتفاق ہے کہ حج اور عمرے میں بال چھوٹے کرانا بھی جائز ہے اور ایسا کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہو گا۔
ابن منذر نے حسن بصری ؒ سے نقل کیا ہے کہ جس نے پہلی دفعہ حج کیا ہو اس کے لیے حلق ضروری ہے، بال چھوٹے کرانے سے کام نہیں چلے گا لیکن ابن منذر کی مذکورہ بات محل نظر ہے کیونکہ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے کہ حسن بصری ؒ نے فرمایا: جس نے پہلے حج نہ کیا ہو اسے اختیار ہے چاہے بال منڈوائے یا قصر کرے۔
(عمدةالقاري: 345/7)
(1)
بَرَا الدَّبَر: سفر میں اونٹوں کی پشتوں پر سازوسامان لادنے سے، ان کی پشتیں چھل جاتی ہیں، سفر سے واپسی کے بعد کچھ عرصہ آرام ملنے سے وہ زخم مندمل ہو جاتے ہیں۔
(2)
عَفَا الاَثَرَ: لوگوں اور سواریوں کی آمدورفت سے راستہ پر نشان قدم پڑجاتے ہیں، اور جب آمد و رفت بند ہو جائے، تو یہ نقش مٹ جاتے ہیں، ایک ماہ کا عرصہ گزرنے پر دونوں کام حاصل ہو جاتے ہیں یا مطلب یہ ہےکہ زخم درست ہونے کے بعد ان کے نشان بھی مٹ جاتے ہیں۔
(3)
تَعَاظَم: انتہائی ناگواری اور گرانی پیدا ہو گئی، کیونکہ یہ لوگ حج سے پہلے عمرہ کے عادی نہ تھے، بلکہ اس کو جرم وگناہ تصور کرتے تھے، اس سے پہلے ذوالقعدہ میں عمرے کیے گئے ہیں، لیکن ان کے بعد حج نہیں کیا گیا، اس لیے وہاں ناگواری پیدا نہ ہوئی اور نہ ہی رسم جاہلیت پر زد پڑی۔
فوائد ومسائل: عرب لوگ جنگ وجدال اور لوٹ مار کے عادی تھے اس لیے مسلسل تین ماہ قتل و غارت اور لوٹ مارسے رکے رہنا ان کے لیے بہت مشکل تھا اس لیے انھوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ حج سے فراغت کے بعد اس کام کو شروع کرنے کے لیے انھوں نے محرم کوصفر بنا ڈالا اور اس میں لوٹ مار کی عادت پوری کر لی۔
اس کے بعد والے مہینہ کو محرم بنا ڈالا اور اس میں عمرہ کر لیتے قرآن مجید نے اس رسم کو ’’نسی‘‘ کا نام دیا ہے اور اس کو کافرانہ فعل قرار دیا ہے۔
مسلم قری سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا اور آپ کے صحابہ کرام نے حج کا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1804]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کا احرام باندھا اور آپ کے اصحاب نے حج کا، اور آپ نے جن کے ساتھ ہدی کے جانور نہیں تھے انہیں حکم دیا کہ وہ احرام کھول کر حلال ہو جائیں، تو جن کے ساتھ ہدی کے جانور نہیں تھے ان میں طلحہ بن عبیداللہ اور ایک اور شخص تھے، یہ دونوں احرام کھول کر حلال ہو گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2816]
(2) ”وہ دونوں حلال ہوگئے“ ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید یہی دو اشخاص تھے جن کے پاس جانور نہیں تھے، لہٰذا صرف یہ دونوں حلال ہوئے، لیکن صورت حال اس سے یکسر مختلف ہے۔ قربانی ساتھ لے جانے والے چند افراد تھے۔ اکثر صحابہ قربانی کے جانور ساتھ نہیں لائے تھے بلکہ صحیح بخاری میں صراحت ہے کہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ تو قربانی کے جانور ساتھ لائے تھے اور وہ حلال نہیں ہوئے۔ دیکھیے: (صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1651) اور یہی بات صحیح ہے۔ اس روایت میں وہم ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 24/ 349- 350)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ (زمانہ جاہلیت میں) لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کر لینے کو زمین میں ایک بہت بڑا گناہ تصور کرتے تھے، اور محرم (کے مہینے) کو صفر کا (مہینہ) بنا لیتے تھے، اور کہتے تھے: جب اونٹ کی پیٹھ کا زخم اچھا ہو جائے، اور اس کے بال بڑھ جائیں اور صفر کا مہینہ گزر جائے یا کہا صفر کا مہینہ آ جائے تو عمرہ کرنے والے کے لیے عمرہ حلال ہو گیا چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2815]
(2) حج کے مہینوں سے مراد ہیں: شوال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ کے پہلے 9 دن کیونکہ ان دنوں میں حج کا احرام باندھا جا سکتا ہے۔ بعض نے پورا ذوالحجہ بھی مراد لیا ہے کیونکہ اس کا نام ہی حج کا مہینہ ہے، لہٰذا ان کے نزدیک عمرہ ذوالحجہ کے بعد ہی ہونا چاہیے، الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو جیسے حضرت عائشہؓ کو تھی۔
(3) ”محرم کو صفر“ ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم تین مہینے اکٹھے حرمت کے ہیں۔ جب کفار کو مسلسل تین مہینے حرمت کے گزارنے مشکل ہو جاتے تو وہ محرم کو صفر قرار دے لیتے۔ اپنی تنگی دور کرنے کے بعد صفر کو محرم قرار دے لیتے اور حرمت کی پابندیوں پر عمل کرتے تاکہ گنتی پوری ہو جائے، مگر یہ شریعت کے ساتھ مذاق ہے کہ اپنے آپ کو بدلنے کے بجائے شریعت کا حکم بدل دیا جائے۔ اسی لیے قران مجید نے اس کے بارے میں برے سخت الفاظ استعمال فرمائے ہیں: ﴿إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ﴾ (التوبة: 37) عربی میں اس فعل کونسی (تاخیر) کہا جاتا ہے۔
(4) ”زخم ٹھیک ہو جائیں۔“ حج کے سفر کے دوران میں پالان لگ لگ کر پیٹھ پر زخم بن جاتے تھے۔ ان کا مطلب تھا کہ جب تک وہ زخم ٹھیک نہیں ہو جاتے، عمرے کا سفر شروع نہ کیا جائے۔
(5) ”اون اگ آئے“ پالانوں کی وجہ سے اون جھڑ جاتی تھی، نیز زخموں والی جگہ بھی اون سے خالی ہو جاتی تھی۔ مطلب یہ تھا کہ دوبارہ اچھی طرح اون اگ آئے، تب عمرے کا سفر شروع کیا جائے۔
(6) ”اور صفر گزر جائے۔“ مراد محرم ہے کیونکہ وہ محرم کو صفر بنا لیتے تھے، لہٰذا دوسرا جملہ ”یا صفر شروع ہو جائے۔“ اس کے خلاف نہیں ہے کیونکہ اس دوسرے جملے میں صفر سے حقیقی صفر مراد ہے، یعنی محرم گزر جائے اور صفر شروع ہو جائے تو پھر وہ عمرہ کرنے کے قائل تھے۔ (باقی مباحث پیچھے گزر چکے ہیں۔)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب چار ذی الحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے مکہ آئے، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ (عمرہ کر کے) احرام کھول ڈالیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2873]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: قسم اللہ کی! میں تمہیں متعہ سے یعنی حج میں عمرہ کرنے سے روک رہا ہوں، حالانکہ وہ کتاب اللہ میں موجود ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2737]