سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب كَيْفَ تُنْحَرُ الْبُدْنُ باب: اونٹ کیسے نحر کئے جائیں؟
حدیث نمبر: 1767
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ " كَانُوا يَنْحَرُونَ الْبَدَنَةَ مَعْقُولَةَ الْيُسْرَى قَائِمَةً عَلَى مَا بَقِيَ مِنْ قَوَائِمِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ( ابن جریج کہتے ہیں : نیز مجھے عبدالرحمٰن بن سابط نے ( مرسلاً ) خبر دی ہے ) کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام اونٹ کا بایاں پاؤں باندھ کر اور باقی پیروں پر کھڑا کر کے اسے نحر کرتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اونٹ کو سینہ پر مار کر ذبح کرتے ہیں اس لیے نحر کا لفظ استعمال ہوا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اونٹ کیسے نحر کئے جائیں؟`
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (ابن جریج کہتے ہیں: نیز مجھے عبدالرحمٰن بن سابط نے (مرسلاً) خبر دی ہے) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام اونٹ کا بایاں پاؤں باندھ کر اور باقی پیروں پر کھڑا کر کے اسے نحر کرتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1767]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (ابن جریج کہتے ہیں: نیز مجھے عبدالرحمٰن بن سابط نے (مرسلاً) خبر دی ہے) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام اونٹ کا بایاں پاؤں باندھ کر اور باقی پیروں پر کھڑا کر کے اسے نحر کرتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1767]
1767. اردو حاشیہ: ➊ جانور کو ذبح کرنے کےلیے اگر اس کے حلق پر چھری چلائی جائے تواسے اصطلاحا ً ذبح کرنا کہتے ہیں اور اگر لبہ (حلق کے نیچے ہنسلی کے قریب نرم جگہ)پر چلائی جائےتو اسے نحر کرنا کہتے ہیں۔اونٹ کو نحر کرنا افضل ہے اور بکر ی کو ذبح کرنا۔گائے کے لیے دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں مگر اس کےمعنی بالعموم ذبح کرنا ہی کیے جاتے ہیں جیسے کہ پیچھے احادیث 1750 اور 1751 میں گزرا ہے۔
➋ اس میں اونٹ کےنحر کرنے کا طریقہ بیان ہوا ہے۔اونٹ کو اس کے مطابق ہی نحر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
➋ اس میں اونٹ کےنحر کرنے کا طریقہ بیان ہوا ہے۔اونٹ کو اس کے مطابق ہی نحر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1767 سے ماخوذ ہے۔