سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب فِي الْهَدْىِ إِذَا عَطِبَ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ باب: ہدی کا جانور اپنے مقام (مکہ) پر پہنچنے سے پہلے ہلاک ہو جائے تو کیا کیا جائے؟
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُسَدَّدٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا الْأَسْلَمِيَّ وَبَعَثَ مَعَهُ بِثَمَانِ عَشْرَةَ بَدَنَةً ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ أُزْحِفَ عَلَيَّ مِنْهَا شَيْءٌ ؟ قَالَ : " تَنْحَرُهَا ، ثُمَّ تَصْبُغُ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ، ثُمَّ اضْرِبْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ ، أَوْ قَالَ : مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَوْلُهُ : " وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ رُفْقَتِكَ " ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ : " ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا مَكَانَ اضْرِبْهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُد : سَمِعْت أَبَا سَلَمَةَ ، يَقُولُ : إِذَا أَقَمْتَ الْإِسْنَادَ وَالْمَعْنَى كَفَاكَ .
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں اسلمی کو ہدی کے اٹھارہ اونٹ دے کر بھیجا تو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر ان میں سے کوئی ( چلنے سے ) عاجز ہو جائے تو آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اسے نحر کر دینا پھر اس کے جوتے کو اسی کے خون میں رنگ کر اس کی گردن کے ایک جانب چھاپ لگا دینا اور اس میں سے کچھ مت کھانا ۱؎ اور نہ ہی تمہارے ساتھ والوں میں سے کوئی کھائے ، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا : «من أهل رفقتك» ” یعنی تمہارے رفقاء میں سے کوئی نہ کھائے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبدالوارث کی حدیث میں «اضربها» کے بجائے «ثم اجعله على صفحتها» ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے ابوسلمہ کو کہتے سنا : جب تم نے سند اور معنی درست کر لیا تو تمہیں کافی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں اسلمی کو ہدی کے اٹھارہ اونٹ دے کر بھیجا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کوئی (چلنے سے) عاجز ہو جائے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اسے نحر کر دینا پھر اس کے جوتے کو اسی کے خون میں رنگ کر اس کی گردن کے ایک جانب چھاپ لگا دینا اور اس میں سے کچھ مت کھانا ۱؎ اور نہ ہی تمہارے ساتھ والوں میں سے کوئی کھائے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: «من أهل رفقتك» ” یعنی تمہارے رفقاء میں سے کوئی نہ کھائے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالوارث کی حدیث میں «اضربها» کے بجائے «ثم اجعله على صفحتها» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے ابوسلمہ کو کہتے سنا: جب تم نے سند اور معنی درست کر لیا تو تمہیں کافی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1763]
➋ بالمعنی روایت کرنے اور اس کے جائز ہونے کی دوشرطیں ہیں ایک تو سند صحیح ہو دوسری یہ کہ وہ حدیث بھی صحیح المعنی ہو۔
(1)
اَزْحَفَتْ عَلَيْهِ: تھک ہار کر رک گیا۔
(2)
عَيَ بِشَأْنِهَا: وہ اس کا حکم، مسئلہ جاننے سے عاجز آ گیا۔
(3)
اُبْدِعَتْ: تھک ہار کر ٹھہر گیا، چلنے کے قابل نہ رہا۔
(4)
اَهْلُ رُفْقَتِكَ: تیرے رفیق اور قافلہ کے لوگ۔
فوائد ومسائل: قربانی کا جو جانور راستہ میں تھک ہار کر چلنے کے قابل نہ رہے تو اس کو ذبح کر کے اس کے گلے میں جو جوتیوں کا ہار تھا اسے خون میں رنگ کر اس پر ڈال دیں، تاکہ پتہ چل سکے یہ حج کی قربانی کا جانور ہے، جسے دوسرے لوگ کھا سکتے ہیں لیکن قافلہ میں شریک لوگ اس کو نہیں کھا سکتے، جمہور (امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، احمد رحمۃ اللہ علیہ)
کا یہی نظریہ ہے، اگر ہدی واجب تھی (یعنی تمتع اور قران کے لیے تھی)
تو اس کی جگہ اور قربانی کرنا ہو گی اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اگر قربانی نفلی تھی تو پھر اس کا کھانا کھلانا اور بیچنا درست ہے، اگر قربانی واجب ہو اور انسان اس کو ذبح نہ کرے تو پھر اس کا دودھ استعمال کر سکتا ہے، چونکہ اس نے اس کی جگہ دوسرا جانور خرید لیا ہے، نفلی کی صورت میں عوض نہیں ہے، اس لیے اس کو ذبح کرنا ہو گا جمہور کا یہی موقف ہے۔