حدیث نمبر: 1761
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوزبیر کہتے ہیں کہ` میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ہدی پر سوار ہونے کے بارے میں پوچھا : تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے ، جب تم اس کے لیے مجبور کر دئیے جاؤ تو اس پر سوار ہو جاؤ بھلائی کے ساتھ یہاں تک کہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے امام ابوحنیفہ کے مذہب کی تائید ہوتی ہے، جنہوں نے سوار ہونے کے لئے حاجت و ضرورت کی قید لگائی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1761
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1324)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحج 65 (1324)، سنن النسائی/الحج 76 (2804)، ( تحفة الأشراف: 2808)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/317، 324، 325، 348) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1324 | سنن نسائي: 2804

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ہدی کے اونٹوں پر سوار ہونے کا بیان۔`
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ہدی پر سوار ہونے کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے، جب تم اس کے لیے مجبور کر دئیے جاؤ تو اس پر سوار ہو جاؤ بھلائی کے ساتھ یہاں تک کہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1761]
1761. اردو حاشیہ: یعنی بوقت ضرورت انسان ہدی او ر قربانی کے جانور پر سواری کر لے تو کوئی حرج نہیں
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1761 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1324 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
ابو زبیر کہتے ہیں، میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قربانی کے اونٹ پر سوار ہونے کے بارے میں سوال کیا؟ انہوں نے جواب دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ’’جب تک سواری نہ ملے تو دستور و عرف کے مطابق سوار ہو جاؤ۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3215]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے اگر سواری نہ ہو تو پھر ایسے طریقے سے قربانی کے اونٹ پر سوار ہوا جا سکتا ہے جو اس کے لیے تکلیف اور اذیت کا باعث نہ بنے، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور بعض حضرات کا نظریہ یہی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1324 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2804 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´معروف طریقے پر ہدی کے جانور پر سوار ہونے کا بیان۔`
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ان سے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دستور کے مطابق اس کی سواری کر جب تم اس کے لیے مجبور کر دئیے جاؤ یہاں تک کہ دوسری سواری پا لو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2804]
اردو حاشہ: آخری الفاظ حتیٰ  کہ تجھے سواری مل جائے۔ سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ ضرورت سے مراد سواری کا نہ ہونا ہے، نہ کہ چلنے سے بالکل عاجز آ جانا، لہٰذا سواری نہ ہو، سفر لمبا ہو تو قربانی کے جانور پر سوار ہو سکتا ہے، البتہ سواری کرتے وقت بھی اس کا احترام قائم رکھے، یعنی اسے نہ بھگائے، نہ مارے، نہ سب وشتم کرے بلکہ اسے اپنی مرضی کے مطابق چلنے دے۔ جب وہ تھک جائے تو آرام کرنے دے۔ چارے وغیرہ کا بھی خیال رکھے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2804 سے ماخوذ ہے۔