حدیث نمبر: 1756
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ قَالَ أَبُو دَاوُد : أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ خَالُ مُحَمَّدٍ بْنِ سَلَمَةَ رَوَى عَنْهُ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ جَهْمِ بْنِ الْجَارُودِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَهْدَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نَجِيبًا فَأَعْطَى بِهَا ثَلَاثَ مِائَةِ دِينَارٍ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَهْدَيْتُ نَجِيبًا فَأَعْطَيْتُ بِهَا ثَلَاثَ مِائَةِ دِينَارٍ أَفَأَبِيعُهَا وَأَشْتَرِي بِثَمَنِهَا بُدْنًا ، قَالَ : " لَا انْحَرْهَا إِيَّاهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا لِأَنَّهُ كَانَ أَشْعَرَهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک بختی اونٹ ہدی کیا پھر انہیں اس کی قیمت تین سو دینار دی گئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے : اللہ کے رسول ! میں نے بختی اونٹ ہدی کیا اس کے بعد مجھے اس کی قیمت تین سو دینار مل رہی ہے ، کیا میں اسے بیچ کر اس کی قیمت سے ( ہدی کے لیے ) ایک اونٹ خرید لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں اسی کو نحر کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ ممانعت ( نہی ) اس لیے تھی کہ وہ اس کا اشعار کر چکے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1756
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, جھم بن الجا رود و ثقه ابن حبان وحده وجھله ابن خزيمة وغيره فھو مجهول،انظر التحرير (983) وقال البخاري :’’ لايعرف له سماع من سالم‘‘, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 70
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 6748)، وقد أخرجہ: (حم (2/145) (ضعیف) » (ایک تو جہم لین الحدیث ہیں، دوسرے سالم سے ان کا سماع ثابت نہیں ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ہدی تبدیل کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک بختی اونٹ ہدی کیا پھر انہیں اس کی قیمت تین سو دینار دی گئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میں نے بختی اونٹ ہدی کیا اس کے بعد مجھے اس کی قیمت تین سو دینار مل رہی ہے، کیا میں اسے بیچ کر اس کی قیمت سے (ہدی کے لیے) ایک اونٹ خرید لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں اسی کو نحر کرو۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ممانعت (نہی) اس لیے تھی کہ وہ اس کا اشعار کر چکے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1756]
1756. اردو حاشیہ: جب قربانی یا ہدی کے لیے جانور خاص کر دیا گیا ہو تو اسے تبدیل کرنا درست نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1756 سے ماخوذ ہے۔