سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب فِي الْمَوَاقِيتِ باب: میقات کا بیان۔
حدیث نمبر: 1737
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ وَبَلَغَنِي أَنَّهُ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ ، اہل شام کے لیے جحفہ اور اہل نجد کے لیے قرن کو میقات ۱؎ مقرر کیا ، اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لیے یلملم ۲؎ کو میقات مقرر کیا ۔
وضاحت:
۱؎: میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حاجی یا معتمر احرام باندھ کر حج یا عمرہ کی نیت کرتا ہے۔
۲؎: یلملم ایک پہاڑ ہے جو مکہ سے دو دن کے فاصلہ پر واقع ہے۔
۲؎: یلملم ایک پہاڑ ہے جو مکہ سے دو دن کے فاصلہ پر واقع ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1737
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1525) صحيح مسلم (1182)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مسند الحميدي: 635
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 635 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
635-سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ”اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں گے اہل شام حجفہ سے احرام باندھیں گے اور اہل نجد قرن سے احرام باندھیں گے۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:635]
فائدہ:
اس حدیث میں میقات کا ذکر ہے، ذوالحلیفہ کا نیا نام آبارعلی ہے اور یہ مدینہ اور اس کے قرب و جوار اور اس کے پیچھے سے آنے والے لوگوں کے لیے میقات ہے، یہ مکہ مکرمہ سے 450 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
جحفہ: بید شام مصر اور ترکی کی طرف سے آنے والوں کے لیے میقات ہے، یہ بستی ویران ہو چکی ہے، اب اس کے قریب مقام رابغ سے احرام باندھا جا تا ہے، یہ مکہ کے شمال کی جانب 183 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
قرن منازل: نجد اور الرفاۃ سے آنے والوں کے لیے میقات ہے، اس کی قریبی جگہ السیل سے احرام باندھا جا تا ہے، یہ مکہ مکرمہ سے 75 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
یلملم: یہ یمن، پاکستان اور ہندوستان کی طرف سے آنے والوں کے لیے میقات ہے، یہ پہاڑ مکہ مکرمہ سے 92 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
اس حدیث میں اسلام کے ہر سو پھیل جانے کی پیش گوئی موجود ہے، اور ایسے ہی ہوا ہے، والحمد للہ۔ جو شخص حج یا عمرہ کی غرض سے مکہ مکرمہ آئے گا، وہ ان میقات سے احرام باندھے گا، لیکن جو ان میقاتوں کی حدود کے اندر رہتے ہیں وہ اپنی اپنی رہائش گاہ سے احرام باندھیں گے۔
اس حدیث میں میقات کا ذکر ہے، ذوالحلیفہ کا نیا نام آبارعلی ہے اور یہ مدینہ اور اس کے قرب و جوار اور اس کے پیچھے سے آنے والے لوگوں کے لیے میقات ہے، یہ مکہ مکرمہ سے 450 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
جحفہ: بید شام مصر اور ترکی کی طرف سے آنے والوں کے لیے میقات ہے، یہ بستی ویران ہو چکی ہے، اب اس کے قریب مقام رابغ سے احرام باندھا جا تا ہے، یہ مکہ کے شمال کی جانب 183 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
قرن منازل: نجد اور الرفاۃ سے آنے والوں کے لیے میقات ہے، اس کی قریبی جگہ السیل سے احرام باندھا جا تا ہے، یہ مکہ مکرمہ سے 75 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
یلملم: یہ یمن، پاکستان اور ہندوستان کی طرف سے آنے والوں کے لیے میقات ہے، یہ پہاڑ مکہ مکرمہ سے 92 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
اس حدیث میں اسلام کے ہر سو پھیل جانے کی پیش گوئی موجود ہے، اور ایسے ہی ہوا ہے، والحمد للہ۔ جو شخص حج یا عمرہ کی غرض سے مکہ مکرمہ آئے گا، وہ ان میقات سے احرام باندھے گا، لیکن جو ان میقاتوں کی حدود کے اندر رہتے ہیں وہ اپنی اپنی رہائش گاہ سے احرام باندھیں گے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 635 سے ماخوذ ہے۔