سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب الْكَرِيِّ باب: حج میں جانوروں کو کرایہ کے لیے لے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1734
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ النَّاسَ فِي أَوَّلِ الْحَجِّ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ بِمِنًى وَ عَرَفَةَ وَ سُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَمَوَاسِمِ الْحَجِّ فَخَافُوا الْبَيْعَ وَهُمْ حُرُمٌ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ : لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198 فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ " ، قَالَ : فَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقْرَؤُهَا فِي الْمُصْحَفِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` لوگ شروع شروع میں منیٰ ، عرفہ اور ذوالمجاز کے بازاروں اور حج کے موسم میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے پھر انہیں حالت احرام میں خرید و فروخت کرنے میں تامل ہوا ، تو اللہ نے «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» ” تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو “ نازل کیا یعنی حج کے موسم میں ۔ عطا کہتے ہیں : مجھ سے عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ وہ ( ابن عباس ) اسے «في مواسم الحج» اپنے مصحف میں پڑھا کرتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: «في مواسم الحج» کا لفظ اس روایت کے مطابق ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مصحف میں اس آیت کا ٹکڑا تھا، مگر یہ قرات شاذ ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´حج میں جانوروں کو کرایہ کے لیے لے جانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ شروع شروع میں منیٰ، عرفہ اور ذوالمجاز کے بازاروں اور حج کے موسم میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے پھر انہیں حالت احرام میں خرید و فروخت کرنے میں تامل ہوا، تو اللہ نے «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» " تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو " نازل کیا یعنی حج کے موسم میں۔ عطا کہتے ہیں: مجھ سے عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ وہ (ابن عباس) اسے «في مواسم الحج» اپنے مصحف میں پڑھا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1734]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ شروع شروع میں منیٰ، عرفہ اور ذوالمجاز کے بازاروں اور حج کے موسم میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے پھر انہیں حالت احرام میں خرید و فروخت کرنے میں تامل ہوا، تو اللہ نے «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» " تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو " نازل کیا یعنی حج کے موسم میں۔ عطا کہتے ہیں: مجھ سے عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ وہ (ابن عباس) اسے «في مواسم الحج» اپنے مصحف میں پڑھا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1734]
1734. اردو حاشیہ: ➊ سوق ذی المجاز عرفات کے قریب ایک منڈی کا نام تھا۔ بعض نے لکھا ہے کہ یہ منی کے قریب لگتی تھی۔
➋ مذکورہ قسم کی قراءت شاذ کہلاتی ہے جو تفسیر وتوضیح کا فائدہ دیتی ہے۔ اصل صحیح قراءت وہی ہے جوتواتر سے ثابت ہے۔
➌ احرام باندھ لینے کےبعد امور تجارت میں مشغول ہونا حج کےلیے کوئی باعث نقص نہیں ہے۔
➋ مذکورہ قسم کی قراءت شاذ کہلاتی ہے جو تفسیر وتوضیح کا فائدہ دیتی ہے۔ اصل صحیح قراءت وہی ہے جوتواتر سے ثابت ہے۔
➌ احرام باندھ لینے کےبعد امور تجارت میں مشغول ہونا حج کےلیے کوئی باعث نقص نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1734 سے ماخوذ ہے۔