حدیث نمبر: 1731
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ : لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198 ، قَالَ : " كَانُوا لَا يَتَّجِرُونَ بِمِنًى فَأُمِرُوا بِالتِّجَارَةِ إِذَا أَفَاضُوا مِنْ عَرَفَاتٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے راوی کہتے ہیں` انہوں نے یہ آیت «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» ۱؎ ” تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو “ پڑھی اور بتایا کہ عرب کے لوگ منیٰ میں تجارت نہیں کرتے تھے تو انہیں عرفات سے واپسی پر منیٰ میں تجارت کا حکم دیا گیا ۔

وضاحت:
۱؎: سورة البقرة: (۱۹۸)
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1731
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يزيد بن أبي زياد ضعيف, وحديث البخاري (1770) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 6428)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 150 (1770) والبیوع 1 (2050) وتفسیر القرآن 34 (2098) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´حج میں تجارت کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے راوی کہتے ہیں انہوں نے یہ آیت «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» ۱؎ " تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو " پڑھی اور بتایا کہ عرب کے لوگ منیٰ میں تجارت نہیں کرتے تھے تو انہیں عرفات سے واپسی پر منیٰ میں تجارت کا حکم دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1731]
1731. اردو حاشیہ: ➊ اس آیت کریمہ میں وضاحت ہے کہ احرام باندھ لینے کے بعد تجارت جیسے مشغلہ میں مشغول ہونا کہ فرائض اور واجبات بھی ادا ہونے رہیں کوئی حرج یا عیب کی بات نہیں۔
➋ اس مباح انداز سےزاد راہ حاصل کرناعین حلال ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1731 سے ماخوذ ہے۔