حدیث نمبر: 173
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، " أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَكَ عَلَى قَدَمِهِ مِثْلَ مَوْضِعِ الظُّفْرِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، وَلَمْ يَرْوِهِ إِلَّا ابْنُ وَهْبٍ وَحْدَهُ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ،عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ ، قَالَ : ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کر کے آیا ، اس نے اپنے پاؤں میں ناخن کے برابر جگہ ( خشک ) چھوڑ دی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جریر بن حازم سے مروی یہ حدیث معروف نہیں ہے ، اسے صرف ابن وہب نے روایت کیا ہے ، اس جیسی حدیث معقل بن عبیداللہ جزری سے بھی مروی ہے ، معقل ابوزبیر سے ، ابوزبیر جابر سے ، جابر عمر سے ، اور عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 173
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, في حديث ابي داود (173): قتاده صرح بالسماع بل ابن وهب عنعن، وفي حديث ابن ماجه (665): ابن وهب صرح بالسماع بل قتاده عنعن، وللحديث شواھد منھا الحديث الآتي (175)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الطھارة 139 (665)، (تحفة الأشراف: 1148)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/146)، وحدیث عمر أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 10 (243)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 139 (666) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 665 | بلوغ المرام: 50

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 665 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´وضو میں کوئی جگہ سوکھی چھوڑ دی تو کیا کرے؟`
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی وضو کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے ناخن کی مقدار خشک جگہ چھوڑ دی تھی، جہاں پانی نہیں پہنچا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جاؤ دوبارہ اچھی طرح وضو کرو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 665]
اردو حاشہ:
اگر نماز سے پہلے وضو کے اعضاء میں کوئی جگہ خشک نظر آ جائے تو دوبارہ وضو کرنا چاہیے اور اگر نماز کے بعد معلوم ہو تو دوبارہ وضو کرکے نماز بھی دوبارہ پڑھے جیسے اگلی حدیث میں صراحت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 665 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 50 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´سارا پاؤں دھونا فرض`
«. . . راى النبى صلى الله عليه وآله وسلم رجلا وفي قدمه مثل الظفر لم يصبه الماء،‏‏‏‏ فقال:‏‏‏‏ارجع فاحسن وضوءك . . .»
. . . نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک ایسے آدمی پر پڑی جس کے پاؤں کی ناخن برابر جگہ پر پانی نہ پہنچا (یعنی خشک رہ گئی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ واپس جاؤ اور اچھی طرح عمدہ طریق سے وضو کرو . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 50]
فوائد و مسائل:
➊ یہ حدیث اس بات پر واضح دلیل ہے کہ سارا پاؤں دھونا فرض۔
➋ ایک دوسری حدیث میں ہے جسے مسلم نے روایت کیا ہے کہ پاؤں کا جتنا حصہ خشک رہ گیا اس کے لئے آگ ہے۔ [صحيح مسلم، الطهارة، باب وجوب غسل الرجلين بكماله، حديث: 241]
➌ ابوداود میں بھی خالد بن معدان سے ایک روایت اسی معنی میں منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے دیکھا کہ اس کے قدم کی پشت پر تھوڑا سا خشک داغ تھا۔ آپ نے اسے حکم دیا کہ جا، پہلے دوبارہ وضو کر اور پھر نماز پڑھ۔ [سنن ابي داؤد، الطهارة، باب تفريق الوضوء، حديث: 175]
➍ یہ اور اسی قبیل کی دوسری روایات اس پر دال ہیں کہ پاؤں کا دھونا فرض ہے، مسح ناکافی ہے۔
➎ انہی احادیث کی روشنی میں ائمہ اربعہ، اہل سنت اور مجتہدین امت نے بالاتفاق پاؤں کے دھونے کو فرض قرار دیا ہے۔ جو لوگ پاؤں کے دھونے کو فرض قرار نہیں دیتے اور مسح کے قائل ہیں ان احادیث سے ان کے نظریے کی تردید ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 50 سے ماخوذ ہے۔