حدیث نمبر: 1729
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ الْأَحْمَرَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام میں «صرورة» نہیں ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1729
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عمر بن عطاء اختلف في تعينه و ھو ابن وراز وھو ضعيف (تق : 4949), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 6162)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/312) (ضعیف) » (اس کے راوی عمر بن عطاء بن دراز ضعیف ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´«صرورت» (حج اور نکاح نہ کرنا) اسلام میں نہیں ہے۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اسلام میں «صرورة» نہیں ہے۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1729]
1729. اردو حاشیہ: عمر بن عطاء یعنی ابن ابی خوار ضعیف راوی ہے کئی ایک نے اس کو ضعیف کہا۔ «صرورة» (صاد کے فتحہ کے ساتھ،)کےایک معنی تو یہی ہیں جو ذکر ہوئے دوسرے معنی اس کے یہ بھی ہیں کہ کوئی راہیوں کے سے اندازمیں زندگی گزارے اور نکاح نہ کرے۔ یہ اسلام میں نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1729 سے ماخوذ ہے۔