سنن ابي داود
كتاب المناسك— کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب " لاَ صَرُورَةَ " فِي الإِسْلاَمِ باب: «صرورت» (حج اور نکاح نہ کرنا) اسلام میں نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1729
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ الْأَحْمَرَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام میں «صرورة» نہیں ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´«صرورت» (حج اور نکاح نہ کرنا) اسلام میں نہیں ہے۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اسلام میں «صرورة» نہیں ہے۔" [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1729]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اسلام میں «صرورة» نہیں ہے۔" [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1729]
1729. اردو حاشیہ: عمر بن عطاء یعنی ابن ابی خوار ضعیف راوی ہے کئی ایک نے اس کو ضعیف کہا۔ «صرورة» (صاد کے فتحہ کے ساتھ،)کےایک معنی تو یہی ہیں جو ذکر ہوئے دوسرے معنی اس کے یہ بھی ہیں کہ کوئی راہیوں کے سے اندازمیں زندگی گزارے اور نکاح نہ کرے۔ یہ اسلام میں نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1729 سے ماخوذ ہے۔