حدیث نمبر: 1725
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " بَرِيدًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر انہوں نے اسی جیسی روایت ذکر کی البتہ اس میں ( دن رات کی مسافت کے بجائے ) «بريدا» کہا ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: «برید» : چار فرسخ کا ہوتا ہے، اور ایک فرسخ تین میل کا، اس طرح «برید» بارہ میل کا ہوا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1725
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, صححه ابن خزيمة (2527 وسنده صحيح، 2526) وانظر الحديث السابق (1724)
تخریج حدیث « انظرحدیث رقم : (1723)، ( تحفة الأشراف: 12960) (شاذ) » (جریر نے «یوم» یا «لیلة» کی جگہ «برید» کی روایت کی ہے جو جماعت کی روایت کے مخالف ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عورت کا محرم کے بغیر حج کرنا جائز نہیں ہے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر انہوں نے اسی جیسی روایت ذکر کی البتہ اس میں (دن رات کی مسافت کے بجائے) «بريدا» کہا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1725]
1725. اردو حاشیہ: یہ برید والی روایت بعض ائمہ کے نزدیک شاذ ہے۔اور ایک «برید» چار فرسخ کا اور ایک فرسخ تین میل کا ہوتا ہے۔(برید بارہ میل کاہوا)جو علماء کےنزدیک آدھے دن کی مسافت ہوتی ہے۔ اس اعتبار سےان ائمہ کے نزدیک عورت کا بغیر محرم کے مختصر سفر کرنا جائز ہو گا جب کہ دوسرے ائمہ کے نزدیک مطلقاً عورت کا بغیر محرم کے سفر کرنا ناجائز ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1725 سے ماخوذ ہے۔