حدیث نمبر: 1722
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ ابْنٍ لِأَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَزْوَاجِهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورَ الْحُصْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں اپنی ازواج مطہرات سے فرماتے سنا : ” یہی حج ہے پھر چٹائیوں کے پشت ہیں “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اس کے بعد تمہیں گھروں میں ہی رہنا ہے تم پر کوئی اور حج واجب نہیں، مؤلف نے اس حدیث سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ حج زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1722
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, أخرجه أحمد (5/ 218 ح 21905) وابو يعلي الموصلي (1444 وفيه روايته: عن زيد بن أسلم عن ابن لأبي واقد الليثي صاحب رسول الله ﷺ عن أبيه) وصححه الحافظ في فتح الباري (4/ 74 وقال: وإسناد حديث أبي واقد صحيح)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 15517)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/218، 219، 6/324) (صحیح) » (ابوواقد رضی اللہ عنہ کے لڑکے کا نام واقد ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´حج کی فرضیت کا بیان۔`
ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں اپنی ازواج مطہرات سے فرماتے سنا: " یہی حج ہے پھر چٹائیوں کے پشت ہیں " ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1722]
1722. اردو حاشیہ: یہ دلیل ہے کہ حج ایک ہی بار فرض ہے۔علاوہ ازیں نفل ہے۔ تاہم حج وعمرہ بار بار کرنے کی ترغیب بھی آئی ہے۔آپ ﷺ کا فرمان ہے حج اور عمرہ باربار کرو بلاشبہ یہ فقیری اور گناہوں کو دور کرتے ہیں جیسے کہ بھٹی لوہے سونے اور چاندی کامیل کچیل دور کر دیتی ہے اور پاک صاف حج کا ثواب جنت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔(جامع ترمذی المناسک حدیث:810 وسنن نسائی حدیث:2631]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1722 سے ماخوذ ہے۔