سنن ابي داود
كتاب اللقطة— کتاب: گری پڑی گمشدہ چیزوں سے متعلق مسائل
باب باب: لقطہٰ کی پہچان کرانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمَعِيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ وَ حَسَنٌ وَ حُسَيْنٌ يَبْكِيَانِ ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيهِمَا ؟ قَالَتْ : الْجُوعُ ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَوَجَدَ دِينَارًا بِالسُّوقِ فَجَاءَ إِلَى فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا ، فَقَالَتْ : اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ فَخُذْ لَنَا دَقِيقًا فَجَاءَ الْيَهُودِيَّ فَاشْتَرَى بِهِ ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ : أَنْتَ خَتَنُ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَخُذْ دِينَارَكَ وَلَكَ الدَّقِيقُ ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ حَتَّى جَاءَ فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا ، فَقَالَتْ : اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْجَزَّارِ فَخُذْ لَنَا بِدِرْهَمٍ لَحْمًا فَذَهَبَ فَرَهَنَ الدِّينَارَ بِدِرْهَمِ لَحْمٍ فَجَاءَ بِهِ فَعَجَنَتْ وَنَصَبَتْ وَخَبَزَتْ وَأَرْسَلَتْ إِلَى أَبِيهَا فَجَاءَهُمْ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَذْكُرُ لَكَ فَإِنْ رَأَيْتَهُ لَنَا حَلَالًا أَكَلْنَاهُ وَأَكَلْتَ مَعَنَا مِنْ شَأْنِهِ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ : " كُلُوا بِاسْمِ اللَّهِ " ، فَأَكَلُوا ، فَبَيْنَمَا هُمْ مَكَانَهُمْ إِذَا غُلَامٌ يَنْشُدُ اللَّهَ وَالْإِسْلَامَ الدِّينَارَ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدُعِيَ لَهُ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : سَقَطَ مِنِّي فِي السُّوقِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَلِيُّ ، اذْهَبْ إِلَى الْجَزَّارِ ، فَقُلْ لَهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ لَكَ : أَرْسِلْ إِلَيَّ بِالدِّينَارِ وَدِرْهَمُكَ عَلَيَّ " ، فَأَرْسَلَ بِهِ فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ .
´ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے بتایا کہ` علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رو رہے تھے ، تو انہوں نے پوچھا : یہ دونوں کیوں رو رہے ہیں ؟ فاطمہ نے کہا : بھوک ( سے رو رہے ہیں ) ، علی رضی اللہ عنہ باہر نکلے تو بازار میں ایک دینار پڑا پایا ، وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو انہوں نے کہا : فلاں یہودی کے پاس جائیے اور ہمارے لیے آٹا لے لیجئے ، چنانچہ وہ یہودی کے پاس گئے اور اس سے آٹا خریدا ، تو یہودی نے پوچھا : تم اس کے داماد ہو جو کہتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے ؟ وہ بولے : ہاں ، اس نے کہا : اپنا دینار رکھ لو اور آٹا لے جاؤ ، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ آٹا لے کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو وہ بولیں : فلاں قصاب کے پاس جائیے اور ایک درہم کا گوشت لے آئیے ، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ گئے اور اس دینار کو ایک درہم کے بدلے گروی رکھ دیا اور ایک درہم کا گوشت لے آئے ، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آٹا گوندھا ، ہانڈی چڑھائی اور روٹی پکائی ، اور اپنے والد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بلا بھیجا ، آپ تشریف لائے تو وہ بولیں : اللہ کے رسول ! میں آپ سے واقعہ بیان کرتی ہوں اگر آپ اسے ہمارے لیے حلال سمجھیں تو ہم بھی کھائیں اور ہمارے ساتھ آپ بھی کھائیں ، اس کا واقعہ ایسا اور ایسا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کا نام لے کر کھاؤ “ ، ابھی وہ لوگ اپنی جگہ ہی پر تھے کہ اسی دوران ایک لڑکا اللہ اور اسلام کی قسم دے کر اپنے کھوئے ہوئے دینار کے متعلق پوچھ رہا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے بلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا : بازار میں مجھ سے ( میرا دینار ) گر گیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” علی ! قصاب کے پاس جاؤ اور اس سے کہو : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے کہہ رہے ہیں : دینار مجھے بھیج دو ، تمہارا درہم میرے ذمے ہے “ ، چنانچہ اس نے وہ دینار بھیج دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس ( لڑکے ) کو دے دیا ۔