سنن ابي داود
كتاب اللقطة— کتاب: گری پڑی گمشدہ چیزوں سے متعلق مسائل
باب باب: لقطہٰ کی پہچان کرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1712
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، بِهَذَا بِإِسْنَادِهِ ، وقَالَ فِي ضَالَّةِ الْغَنَمِ : " لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ، خُذْهَا قَطُّ " ، وَكَذَا قَالَ فِيهِ أَيُّوبُ ، وَ يَعْقُوبُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَخُذْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس طریق سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں ہے : ” گمشدہ بکری کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ بکری تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیئے کی ، تو اسے پکڑے رکھو “ ۔ اسی طرح ایوب اور یعقوب بن عطا نے عمرو بن شعیب سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” تو تم اسے پکڑے رکھو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´لقطہٰ کی پہچان کرانے کا بیان۔`
اس طریق سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: " گمشدہ بکری کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بکری تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیئے کی، تو اسے پکڑے رکھو۔" اسی طرح ایوب اور یعقوب بن عطا نے عمرو بن شعیب سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (مرسلاً) روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: " تو تم اسے پکڑے رکھو۔" [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1712]
اس طریق سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: " گمشدہ بکری کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بکری تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیئے کی، تو اسے پکڑے رکھو۔" اسی طرح ایوب اور یعقوب بن عطا نے عمرو بن شعیب سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (مرسلاً) روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: " تو تم اسے پکڑے رکھو۔" [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1712]
1712. اردو حاشیہ: محدث یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ عمرو بن شعیب کے تین تلامذہ عبیداللہ بن اخنس ایوب اور یعقوب بن عطاء صرف لفظ «فخذها» بیان کرتے ہیں۔اس پر مزید کوئی اضافہ نہیں کرتے جیسے کہ مندرجہ ذیل روایت میں ابن اسحق نے «فاجمعها حتى ياتيها باغيها» ایک مفصل جملہ ذکر کیا ہے۔(عون المعبود]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1712 سے ماخوذ ہے۔