سنن ابي داود
كتاب اللقطة— کتاب: گری پڑی گمشدہ چیزوں سے متعلق مسائل
باب باب: لقطہٰ کی پہچان کرانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَرَبِيعَةَ ، بِإِسْنَادِ قُتَيْبَةَ وَمَعْنَاهُ ، وَزَادَ فِيهِ : " فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَعَدَدَهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ " ،وقَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا : عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ الَّتِي زَادَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فِي حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَ رَبِيعَةَ : " إِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ " لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ ، فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ، وَحَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيْضًا ، قَالَ : " عَرِّفْهَا سَنَةً " ، وَحَدِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَيْضًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَرِّفْهَا سَنَةً " .
´یحییٰ بن سعید اور ربیعہ سے قتیبہ کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے` اس میں اتنا اضافہ ہے : ” اگر اس کا ڈھونڈنے والا آ جائے اور تھیلی اور گنتی کی پہچان بتائے تو اسے اس کو دے دو “ ۔ اور حماد نے بھی عبیداللہ بن عمر سے ، عبیداللہ نے عمرو بن شعیب نے «عن ابیہ عن جدہ» عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے اسی کے مثل مرفوعاً روایت کی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ زیادتی جو حماد بن سلمہ نے سلمہ بن کہیل ، یحییٰ بن سعید ، عبیداللہ اور ربیعہ کی حدیث ( یعنی حدیث نمبر : ۱۷۰۲ -۱۷۰۳ ) میں کی ہے : «إن جاء صاحبها فعرف عفاصها ووكاءها فادفعها إليه» یعنی : ” اگر اس کا مالک آ جائے اور اس کی تھیلی اور سر بندھن کی پہچان بتا دے تو اس کو دے دو “ ، اس میں : «فعرف عفاصها ووكاءها» ” تھیلی اور سر بندھن کی پہچان بتا دے “ کا جملہ محفوظ نہیں ہے ۔ اور عقبہ بن سوید کی حدیث میں بھی جسے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے یعنی «عرفها سنة» ( ایک سال تک اس کی تشہیر کرو ) موجود ہے ۔ اور عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : «عرفها سنة» تم ایک سال تک اس کی تشہیر کرو ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یحییٰ بن سعید اور ربیعہ سے قتیبہ کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: " اگر اس کا ڈھونڈنے والا آ جائے اور تھیلی اور گنتی کی پہچان بتائے تو اسے اس کو دے دو۔" اور حماد نے بھی عبیداللہ بن عمر سے، عبیداللہ نے عمرو بن شعیب نے «عن ابیہ عن جدہ» عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے اسی کے مثل مرفوعاً روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ زیادتی جو حماد بن سلمہ نے سلمہ بن کہیل، یحییٰ بن سعید، عبیداللہ اور ربیعہ کی حدیث (یعنی حدیث نمبر: ۱۷۰۲ -۱۷۰۳) میں کی ہے: «إن جاء صاحبها فعرف عفاصها ووكاءها فادفعها إليه» یعنی: " اگر اس کا مالک آ جائے اور اس کی تھیلی اور سر بندھن کی پہچان بتا دے تو اس کو دے دو "، اس میں: «فعرف عفاصها ووكاءها» " تھیلی اور سر بندھن کی پہچان بتا دے " کا جملہ محفوظ نہیں ہے۔ اور عقبہ بن سوید کی حدیث میں بھی جسے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے یعنی «عرفها سنة» (ایک سال تک اس کی تشہیر کرو) موجود ہے۔ اور عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: «عرفها سنة» تم ایک سال تک اس کی تشہیر کرو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1708]