سنن ابي داود
كتاب اللقطة— کتاب: گری پڑی گمشدہ چیزوں سے متعلق مسائل
باب باب: لقطہٰ کی پہچان کرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1707
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ : "تُعَرِّفُهَا حَوْلًا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا دَفَعْتَهَا إِلَيْهِ وَإِلَّا عَرَفْتَ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ أَفِضْهَا فِي مَالِكَ فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( لقطے کے متعلق ) پوچھا گیا پھر راوی نے ربیعہ کی طرح حدیث ذکر کی اور کہا : لقطے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک سال تک تم اس کی تشہیر کرو ، اب اگر اس کا مالک آ جائے تو تم اسے اس کے حوالہ کر دو ، اور اگر نہ آئے تو تم اس کے ظرف اور سر بندھن کو پہچان لو پھر اسے اپنے مال میں ملا لو ، پھر اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے اس کو دے دو “ ۔