سنن ابي داود
كتاب اللقطة— کتاب: گری پڑی گمشدہ چیزوں سے متعلق مسائل
باب باب: لقطہٰ کی پہچان کرانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ،حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، زَادَ : " سِقَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ " ، وَلَمْ يَقُلْ : خُذْهَا فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ ، وَقَالَ فِي اللُّقَطَةِ : " عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنُكَ بِهَا " ، وَلَمْ يَذْكُرْ : اسْتَنْفِقْ . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ وَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ مِثْلَهُ ، لَمْ يَقُولُوا : خُذْهَا .
´اس سند سے بھی مالک سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے` البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ : ” وہ اپنی سیرابی کے لیے پانی پر آ جاتا ہے اور درخت کھا لیتا ہے “ ، اس روایت میں گمشدہ بکری کے سلسلے میں «خذها» ( اسے پکڑ لو ) کا لفظ نہیں ہے ، البتہ لقطہٰ کے سلسلے میں فرمایا : ” ایک سال تک اس کی تشہیر کرو ، اگر اس کا مالک آ جائے تو بہتر ہے ورنہ تم خود اس کو استعمال کر لو “ ، اس میں «استنفق» کا لفظ نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ثوری ، سلیمان بن بلال اور حماد بن سلمہ نے اسے ربیعہ سے اسی طرح روایت کیا ہے لیکن ان لوگوں نے «خذها» کا لفظ نہیں کہا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس سند سے بھی مالک سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ: " وہ اپنی سیرابی کے لیے پانی پر آ جاتا ہے اور درخت کھا لیتا ہے "، اس روایت میں گمشدہ بکری کے سلسلے میں «خذها» (اسے پکڑ لو) کا لفظ نہیں ہے، البتہ لقطہٰ کے سلسلے میں فرمایا: " ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا مالک آ جائے تو بہتر ہے ورنہ تم خود اس کو استعمال کر لو "، اس میں «استنفق» کا لفظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ثوری، سلیمان بن بلال اور حماد بن سلمہ نے اسے ربیعہ سے اسی طرح روایت کیا ہے لیکن ان لوگوں نے «خذها» کا لفظ نہیں کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1705]
➋ اس روایت میں راویوں نے «خذها» اسے لے لو اور «استنفق» اس سے فائدہ اٹھاؤ کے الفاظ بیان نہیں کیے جبکہ یہ الفاظ صحیح بخاری میں موجود ہیں۔دیکھیے (صحیح البخاری اللقطة باب ضالة الغنم حدیث:2428]