حدیث نمبر: 1700
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةِ ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ عِدَّةً مِنْ مَسَاكِينَ قَالَ أَبُو دَاوُد : وقَالَ غَيْرُهُ : أَوْ عِدَّةً مِنْ صَدَقَةٍ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطِي وَلَا تُحْصِي فَيُحْصَى عَلَيْكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` انہوں نے کئی مسکینوں کا ذکر کیا ( ابوداؤد کہتے ہیں : دوسروں کی روایت میں «عدة من صدقة» ( کئی صدقوں کا ذکر ہے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” دو اور گنو مت کہ تمہیں بھی گن گن کر رزق دیا جائے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1700
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 16234)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الزکاة 62 (2552)، مسند احمد (6/108، 139، 160) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2550

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2550 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´گن گن کر صدقہ کرنے کی ممانعت کا بیان۔`
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ کچھ مہاجرین و انصار بھی تھے، ہم نے ایک شخص کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ملاقات کی اجازت حاصل کرنے کے لیے بھیجا، (انہوں نے اجازت دے دی، ہم ان کے پاس پہنچی تو انہوں نے کہا: ایک بار میرے پاس ایک مانگنے والا آیا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے، میں نے (خادمہ کو) اسے کچھ دینے کا حکم دیا، پھر میں نے اسے بلایا اسے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2550]
اردو حاشہ: جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بے حساب رزق دے، اسی طرح ہمیں گنے بغیر صدقات کرتے رہنا چاہیے کیونکہ افعال کا بدلہ ان کی مثل ہوتا ہے۔ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے گننے کا ذکر تشاکل کے طور پر ہے ورنہ اللہ تعالیٰ گننے سے بے نیاز ہے۔ وہ گنے بغیر ہر چیز کو جانتا ہے۔ دراصل یہاں گننے سے مراد کم دینا ہے کیونکہ تھوڑی چیز ہی گنی جاتی ہے۔ زیادہ چیز تو بے حساب ہی دی جاتی ہے۔ یاد رہے یہ نفل صدقے کی بات ہے ورنہ فرض صدقات تو حساب کر کے ہی دیے جاتے ہیں اور وہ حساب خود شریعت نے مقرر کیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2550 سے ماخوذ ہے۔