حدیث نمبر: 170
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، عَنْ حَيْوَةَ وَهُوَ ابْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ ، عَنْ ابْنِ عَمِّهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ . وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الرِّعَايَةِ ، قَالَ : عِنْدَ قَوْلِهِ : فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَ : وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے` ابوعقیل یا ان سے اوپر یا نیچے کے راوی نے اونٹوں کے چرانے کا ذکر نہیں کیا ہے ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول : «فأحسن الوضوء» کے بعد یہ جملہ کہا ہے : ” پھر اس نے ( یعنی وضو کرنے والے نے ) اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور یہ دعا پڑھی “ ۱؎ ۔ پھر ابوعقیل راوی نے معاویہ بن صالح کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی ۔

وضاحت:
۱؎: اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ ابوعقیل نے اپنی روایت میں اونٹ چرانے کے واقعے کا ذکر نہیں کیا ہے اور حدیث کی روایت ان الفاظ میں کی ہے: «ما منكم من أحد يتوضأ فاحسن الوضوء ثم رفع بصره إلى السماء فقال أشهد أن لا إله إلا الله إلى آخر الحديث كما قال معاوية» واللہ اعلم، رہی آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے کی حکمت تو یہ شارع کو معلوم ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 170
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن عم أبي عقيل زهرة بن معبد: ’’رجل مجهول‘‘ كما قال المنذري رحمه اللّٰه (عون العبود: 1/ 66) ولم أجد من وثقه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 19
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9974)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/150) (ضعیف) » (سند کے ایک راوی ”ابن عم ابوعقیل“ مبہم ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´وضو کے بعد دعا`
«. . . فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ . . .»
". . . پھر اس نے (یعنی وضو کرنے والے نے) اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور یہ دعا پڑھی . . ." [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 170]
فوائد و مسائل:
➊ یہ روایت ضعیف ہے، اس لیے وضو کے بعد دعا پڑھتے ہوئے آسمان کی طرف نظر اٹھانا یا انگلی اٹھانا صحیح نہیں ہے۔
➋ اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں جبکہ دوزخ کے سات ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 170 سے ماخوذ ہے۔