حدیث نمبر: 1686
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمِصْرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : لَمَّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءُ ، قَامَتِ امْرَأَةٌ جَلِيلَةٌ كَأَنَّهَا مِنْ نِسَاءِ مُضَرَ ، فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّا كَلٌّ عَلَى آبَائِنَا وَأَبْنَائِنَا ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَأُرَى فِيهِ وَأَزْوَاجِنَا فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ، فَقَالَ : " الرَّطْبُ تَأْكُلْنَهُ وَتُهْدِينَهُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : الرَّطْبُ الْخُبْزُ وَالْبَقْلُ وَالرُّطَبُ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ يُونُسَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت کی تو ایک موٹی عورت جو قبیلہ مضر کی لگتی تھی کھڑی ہوئی اور بولی : اللہ کے نبی ! ہم ( عورتیں ) تو اپنے باپ اور بیٹوں پر بوجھ ہوتی ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میرے خیال میں «أزواجنا» کا لفظ کہا ( یعنی اپنے شوہروں پر بوجھ ہوتی ہیں ) ، ہمارے لیے ان کے مالوں میں سے کیا کچھ حلال ہے ( کہ ہم خرچ کریں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «رطب» ہے تم اسے کھاؤ اور ہدیہ بھی کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «رطب» روٹی ، ترکاری اور تر کھجوریں ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور ثوری نے بھی یونس سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1686
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, زياد بن جبير عن سعد مرسل،كما قال أبو زرعة (المراسيل لابن أبي حاتم ص 61), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 68
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف :3853) (ضعیف) » (اس کے رواة عبدالسلام اور زیاد کے اندر کچھ کلام ہے)