حدیث نمبر: 1683
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ وَهُوَ أَتَمُّ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَعُونَ خَصْلَةً : أَعْلَاهُنَّ مَنِيحَةُ الْعَنْزِ مَا يَعْمَلُ رَجُلٌ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا رَجَاءَ ثَوَابِهَا وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِهَا إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : فِي حَدِيثِ مُسَدَّدٍ ، قَالَ حَسَّانُ: فَعَدَدْنَا مَا دُونَ مَنِيحَةِ الْعَنْزِ مِنْ رَدِّ السَّلَامِ ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ ، وَإِمَاطَةِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ ، وَنَحْوَهُ فَمَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نَبْلُغَ خَمْسَةَ عَشَرَ خَصْلَةً .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چالیس خصلتیں ہیں ان میں سب سے بہتر خصلت بکری کا عطیہ دینا ہے ، جو کوئی بھی ان میں سے کسی ( خصلت نیک کام ) کو ثواب کی امید سے اور ( اللہ کی طرف سے ) اپنے سے کئے ہوئے وعدے کو سچ سمجھ کر کرے گا اللہ اسے اس کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مسدد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ حسان کہتے ہیں : ہم نے بکری عطیہ دینے کے علاوہ بقیہ خصلتوں اعمال صالحہ کو گنا جیسے سلام کا جواب دینا ، چھینک کا جواب دینا اور راستے سے کوئی بھی تکلیف دہ چیز ہٹا دینا وغیرہ تو ہم پندرہ خصلتوں تک بھی نہیں پہنچ سکے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1683
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2631)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الھبة 35 (2631)، ( تحفة الأشراف :8967)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/160، 194، 196) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2631

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عطیہ دینے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس خصلتیں ہیں ان میں سب سے بہتر خصلت بکری کا عطیہ دینا ہے، جو کوئی بھی ان میں سے کسی (خصلت نیک کام) کو ثواب کی امید سے اور (اللہ کی طرف سے) اپنے سے کئے ہوئے وعدے کو سچ سمجھ کر کرے گا اللہ اسے اس کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ حسان کہتے ہیں: ہم نے بکری عطیہ دینے کے علاوہ بقیہ خصلتوں اعمال صالحہ کو گنا جیسے سلام کا جواب دینا، چھینک کا جواب دینا اور راستے سے کوئی بھی تکلیف دہ چیز ہٹا دینا وغیرہ تو ہم پندرہ خصلتوں تک بھی نہیں پہنچ سکے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1683]
1683. اردو حاشیہ: ➊ (المنیحۃ) یا (المنحۃ) اس جانور یا چیز کو کہاجاتا ہے۔ جو کسی کو بطورعطیہ دی جائے۔ اس کی دو صورتیں ہیں پہلی یہ کہ وہ جانور یا چیز کلی طور پر کسی کو دے دینا اور خود اس کی ملکیت سے دستبردار ہوجانادوسری چیز یہ ہے کہ وہ چیز اپنی ہی ملکیت میں رکھنا۔ اور عارضی طور پرکسی کو افادے کےلئے دے دینا۔اور پھر بعد میں واپس لے لینا۔عطیے(منحۃ) کی یہ دونوں صورتیں جائز ہیں۔اسی سے (منحۃ الورق) ہے۔ چاندی یعنی روپیہ پیسہ بطور قرض دینا۔(منحۃ اللبن)دودھ ہدیہ کرنا۔۔۔یعنی اونٹنی بکری یا گائے بھینس دودھ کے دنوں میں استفادے کےلئے دے دینا بڑی فضیلت کاکام ہے۔ ایسے ہی پھل کے دنوں میں کوئی پھلدار درخت کسی ضرورت مند کو دے دینا یا کاشت کےلئے زمین دے دینا۔استفادے کے بعد یہ چیز اصل مالک کو لوٹ آتی ہے۔
➋ حدیث میں مذکور خصائل کے علاوہ ایمان کی شاخیں۔جمعہ کےروز ساعت قبولیت اور لیلۃ القدر وغیرہ کو مخفی رکھا گیا ہے۔ حکمت یہ ہے کہ مسلمان ان کی طلب وتلاش میں زیادہ سے زیادہ کوشش کرتے رہیں۔کہیں ان مخصوص اعمال ہی میں محصور ہوکر نہ رہ جایئں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1683 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2631 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2631. حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’چالیس عمدہ خصلتیں ہیں۔ ان میں سے سب سے عمدہ خصلت دودھ والی بکری کا مستعار دینا ہے۔ جوشخص ان میں سے کسی بھی خصلت پر ثواب کی امید سے اور اللہ کے وعدے کو سچا جانتے ہوئے عمل بجا لائے تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب اسے ضرور جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘ (راوی حدیث)حسان کہتے ہیں۔ ہم نے دودھ والی بکری کے ہدیے کے علاوہ دیگر عمدہ خصلتیں گننا شروع کیں، جیسے سلام کا جواب دینا، چھینک کا جواب دینا اور راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا وغیرہ تو ہم پندرہ کی تعداد تک بھی نہ پہنچ سکے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2631]
حدیث حاشیہ: آنحضرت ﷺ نے ان خصلتوں کو کسی مصلحت سے مبہم رکھا۔
شاید یہ غرض ہو کہ ان کے سوا اور دوسری نیک خصلتوں میں لوگ سستی نہ کرنے لگیں۔
مترجم کہتا ہے کہ ایسی عمدہ خصلتیں جن پر جنت کا وعدہ کیاگیا ہے۔
متفرق احادیث میں چالیس بلکہ زیادہ بھی مذکور موجود ہیں۔
یہ امر دیگر ہے کہ حضرت حسان بن عطیہ کو ان سب کا مجموعی طور پر علم نہ ہوسکا۔
تفصیل مزید کے لیے کتاب شعب الایمان امام بیہقی ؒ کا مطالعہ مفید ہوگا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2631 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2631 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2631. حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’چالیس عمدہ خصلتیں ہیں۔ ان میں سے سب سے عمدہ خصلت دودھ والی بکری کا مستعار دینا ہے۔ جوشخص ان میں سے کسی بھی خصلت پر ثواب کی امید سے اور اللہ کے وعدے کو سچا جانتے ہوئے عمل بجا لائے تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب اسے ضرور جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘ (راوی حدیث)حسان کہتے ہیں۔ ہم نے دودھ والی بکری کے ہدیے کے علاوہ دیگر عمدہ خصلتیں گننا شروع کیں، جیسے سلام کا جواب دینا، چھینک کا جواب دینا اور راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا وغیرہ تو ہم پندرہ کی تعداد تک بھی نہ پہنچ سکے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2631]
حدیث حاشیہ:
حدیث کے مطابق ان چالیس نیکیوں میں سے افضل نیکی دودھ والی بکری کا عطیہ ہے۔
ان نیکیوں کے شرف قبولیت کے لیے دو شرطیں ہیں: ٭ ان کو بجا لاتے ہوئے ثواب کی امید رکھی جائے۔
٭ اللہ کے وعدے کو سچا مان کر عمل کیا جائے۔
ان دو شرطوں کے ساتھ عمل کرنے پر اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔
رسول اللہ ﷺ باقی خصلتوں کو جانتے تھے لیکن شاید آپ نے اس غرض سے انہیں مبہم رکھا کہ لوگ خیر اور بھلائی کے دوسرے کاموں میں سستی نہ کریں۔
ایسی عمدہ خصلتیں جن پر جنت کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ متفرق احادیث میں چالیس سے بھی زیادہ بیان ہوئی ہیں۔
تفصیل کے لیے امام بیہقی ؒ کی کتاب "شعب الایمان" کا مطالعہ مفید رہے گا۔
یہ ممکن ہے کہ حضرت حسان بن عطیہ کو ان سب خصلتوں کا مجموعی طور پر علم نہ ہو سکا ہو۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2631 سے ماخوذ ہے۔