سنن ابي داود
كتاب الزكاة— کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
باب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ باب: سارا مال صدقہ کرنے کی اجازت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَذَا حَدِيثُهُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا أَنْ نَتَصَدَّقَ ، فَوَافَقَ ذَلِكَ مَالًا عِنْدِي ، فَقُلْتُ : الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ ؟ " قُلْتُ : مِثْلَهُ ، قَالَ : وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ ؟ " قَالَ : أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قُلْتُ : لَا أُسَابِقُكَ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا .
´اسلم کہتے ہیں کہ` میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں ، اتفاق سے اس وقت میرے پاس دولت تھی ، میں نے کہا : اگر میں کسی دن ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سبقت لے جا سکوں گا تو آج کا دن ہو گا ، چنانچہ میں اپنا آدھا مال لے کر آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے ؟ “ ، میں نے کہا : اسی قدر یعنی آدھا مال ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے کر حاضر ہوئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : ” اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے ؟ “ ، انہوں نے کہا میں ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں ۱؎ ، تب میں نے ( دل میں ) کہا : میں آپ سے کبھی بھی کسی معاملے میں نہیں بڑھ سکوں گا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں، اتفاق سے اس وقت میرے پاس دولت تھی، میں نے کہا: اگر میں کسی دن ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سبقت لے جا سکوں گا تو آج کا دن ہو گا، چنانچہ میں اپنا آدھا مال لے کر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے؟ “، میں نے کہا: اسی قدر یعنی آدھا مال، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے کر حاضر ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ” اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے؟ “، انہوں نے کہا میں ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں ۱؎، تب میں نے (دل میں) کہا: میں آپ سے کبھی بھی کسی معاملے میں نہیں بڑھ سکوں گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1678]
➋ یہ حدیث نیکی کے کاموں میں مسابقت اور مقابلہ کرنے پر دلالت کرتی ہے۔
«. . . أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . . .»
”. . . ان کے لیے تو اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں . . .“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: 3675]
شارحین حدیث نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس جملے «ابقيت لهم الله و رسوله» کی شرح «رضا هما» سے کی ہے۔ یعنی ’’ اللہ اور اس کے رسول کی رضا مندی۔“
جیسا کہ ملا علی قاری حنفی نے مشکوٰۃ کی شرح مرقاۃ [10/ 379] اور علامہ عبدالرحمن محدث مبارکپوری نے تحفتہ الاحوذی [10/ 154] میں ذکر کیا ہے۔
↰ لہٰذا اسے غلط رنگ دے کر بیان کرنا درست نہیں ہے۔ ہر مسلمان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت رکھتا ہے اور وہی کام کرنا پسند کر تا ہے جسے اللہ نے پسند کیا یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ جو مقام صدیقیت پر فائز تھے، انہوں نے بھی صدقہ کرتے وقت جو سب کچھ دے دیا تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہی میں دیا۔ اسی طرح کہا کہ گھر میں اللہ اور اس کے رسول کی رضا ہی چھوڑی ہے۔ والله اعلم!