سنن ابي داود
كتاب الزكاة— کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
باب الرَّجُلِ يَخْرُجُ مِنْ مَالِهِ باب: اگر آدمی اپنا پورا مال صدقہ کر دے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 1675
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : " دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرَحُوا ثِيَابًا فَطَرَحُوا ، فَأَمَرَ لَهُ مِنْهَا بِثَوْبَيْنِ ، ثُمَّ حَثَّ عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ فَطَرَحَ أَحَدَ الثَّوْبَيْنِ فَصَاحَ بِهِ ، وَقَالَ : خُذْ ثَوْبَكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کپڑے ( بطور صدقہ ) ڈال دیں ، انہوں نے ڈال دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے ان میں سے دو کپڑوں ( کے دیئے جانے ) کا حکم دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ پر ابھارا تو وہ شخص دو میں سے ایک کپڑا ڈالنے لگا ، آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا : ” اپنے کپڑے لے لو ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کا صدقہ قبول نہیں کیا کیونکہ اس کو صرف دو کپڑے ملے تھے اور وہ اس کی ضرورت سے زائد نہیں تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اگر آدمی اپنا پورا مال صدقہ کر دے تو کیسا ہے؟`
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کپڑے (بطور صدقہ) ڈال دیں، انہوں نے ڈال دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے ان میں سے دو کپڑوں (کے دیئے جانے) کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ پر ابھارا تو وہ شخص دو میں سے ایک کپڑا ڈالنے لگا، آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: ” اپنے کپڑے لے لو ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1675]
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کپڑے (بطور صدقہ) ڈال دیں، انہوں نے ڈال دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے ان میں سے دو کپڑوں (کے دیئے جانے) کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ پر ابھارا تو وہ شخص دو میں سے ایک کپڑا ڈالنے لگا، آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: ” اپنے کپڑے لے لو ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1675]
1675. اردو حاشیہ: اس کی وضاحت درج زیل حدیث میں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1675 سے ماخوذ ہے۔