حدیث نمبر: 1674
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، بِإِسْنَادِهِ ، وَمَعْنَاهُ ، زَادَ : " خُذْ عَنَّا مَالَكَ لَا حَاجَةَ لَنَا بِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی ابن اسحاق سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے` البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے : «خذ عنا مالك لا حاجة لنا به» ” اپنا مال ہم سے لے لو ہمیں اس کی ضرورت نہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1674
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن إسحاق عنعن, وانظر الحديث السابق (1673), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 67
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف :3097) (ضعیف) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اگر آدمی اپنا پورا مال صدقہ کر دے تو کیسا ہے؟`
اس سند سے بھی ابن اسحاق سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: «خذ عنا مالك لا حاجة لنا به» اپنا مال ہم سے لے لو ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1674]
1674. اردو حاشیہ: ایسا صدقہ یا کوئی نیکی جو جذبات میں آکر کی جائے۔ مگر اس کے ظاہری اثرات اس کے کرنے والے کی برداشت سے باہر ہوں۔ کہ بعد میں اس پرافسوس کرنے لگے۔ یا وہ نیکی ہی اسے بُری لگنے لگے۔ تو یہ بہت بُری کیفیت ہے۔ انسان کو پہلے سوچ کر قدم اُٹھانا چاہیے۔ بالخصوص صدقات کے معاملہ میں اور کچھ نام نہاد صوفیاء میں یہ بات موجود ہے۔ کہ پہلے اپنا سب کچھ لنگر میں دے دیتے ہیں۔ پھر لوگوں سے بٹورنا شروع کردیتے ہیں۔ ولا حول ولا قوۃالا باللہ۔مگرایسے مخلصین جو اللہ پر کامل توکل رکھتے ہوں۔ انہیں کسی ملال کا اندیشہ نہ ہو تو ان کے لئے اپنا تمام مال صدقہ کردینے کی رخصت بھی ہے۔ جیسے کے اگلے باب میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1674 سے ماخوذ ہے۔