سنن ابي داود
كتاب الزكاة— کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
باب كَرَاهِيَةِ الْمَسْأَلَةِ بِوَجْهِ اللَّهِ تَعَالَى باب: اللہ کے نام پر مانگنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1671
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقِلَّوْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُعَاذٍ التَّمِيمِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُسْأَلُ بِوَجْهِ اللَّهِ إِلَّا الْجَنَّةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے نام پر سوائے جنت کے کوئی چیز نہ مانگی جائے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اللہ کے نام پر مانگنے کی کراہت کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کے نام پر سوائے جنت کے کوئی چیز نہ مانگی جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1671]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کے نام پر سوائے جنت کے کوئی چیز نہ مانگی جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1671]
1671. اردو حاشیہ: اس حدیث کی سند محل نظر ہے۔ تاہم معنی واضح ہیں۔ کہ جنت کے مقابلے میں دنیا اللہ کے ہاں پرکاہ بلکہ مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے۔اور اللہ کاچہرہ اور اس کا نام اپنی عظمت اور جلالت شان میں بے مثل وبے مثال ہے تو اسے دنیا جیسی حقیر چیز کے حصول کےلئے واسطہ بنانا مناسب نہیں۔ چاہیے کہ اس کے واسطے عظیم چیز جنت کاہی سوال کیا جائے۔ مابعد آنے والی حدیث اس کے مقابلے میں صحیح ہے۔ اور اس میں رخصت ہے کہ سائل اللہ کے واسطے سے کوئی سوال کرسکتا ہے۔ااوراس حدیث میں (وجه الله) اللہ کی خاص صفت کی بات ہے۔ جس سے مراد اللہ کا چہرہ ہی ہے۔ جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے۔ اس کی تاویل جائز ہے۔ نہ تمثیل وتشبیہ وتعطیل۔(واللہ اعلم) نیز دیکھئے۔تعلیق الشیخ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ مشکواۃ المصابیع حدیث 1944]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1671 سے ماخوذ ہے۔