سنن ابي داود
كتاب الزكاة— کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
باب الْمَسْأَلَةِ فِي الْمَسَاجِدِ باب: مسجد کے اندر سوال کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1670
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَطْعَمَ الْيَوْمَ مِسْكِينًا ؟ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا أَنَا بِسَائِلٍ يَسْأَلُ فَوَجَدْتُ كِسْرَةَ خُبْزٍ فِي يَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأَخَذْتُهَا مِنْهُ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم میں سے ایسا کوئی ہے جس نے آج کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہو ؟ “ ، ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک بھکاری مانگ رہا ہے ، میں نے عبدالرحمٰن کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا پایا تو ان سے اسے لے کر میں نے بھکاری کو دے دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مسجد کے اندر سوال کرنے کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم میں سے ایسا کوئی ہے جس نے آج کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہو؟ “، ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک بھکاری مانگ رہا ہے، میں نے عبدالرحمٰن کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا پایا تو ان سے اسے لے کر میں نے بھکاری کو دے دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1670]
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم میں سے ایسا کوئی ہے جس نے آج کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہو؟ “، ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک بھکاری مانگ رہا ہے، میں نے عبدالرحمٰن کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا پایا تو ان سے اسے لے کر میں نے بھکاری کو دے دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1670]
1670. اردو حاشیہ: یہ روایت اس سند کے ساتھ ضعیف ہے۔ اس لئے سائل والا قصہ صحیح ہے۔ نہ اس سے مسئلۃ الباب کا اثبات یا اس کی نفی ہی ہوتی ہے۔تاہم دوسرے دلائل سے مسجد میں دینی ضرورت کےلئے یا ضرورت مندوں کےلئے سوال کرنا ثابت ہے۔البتہ یہ روایت ایک دوسرے انداز سے صحیح مسلم میں آئی ہے۔ اس میں ہے رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین سے پوچھا آج تم میں سے کس نے روزہ رکھا ہے؟حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے (رکھا ہے۔)آپﷺ نے فرمایا آج تم میں سے کس نے جنازے میں شرکت کی ہے۔؟حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے۔آپ ﷺنے پوچھا تم میں سے آج کس نے مسکین کوکھاناکھلایا ہے۔؟حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے۔ آپﷺ نے پوچھا پھر تم میں سے آج کس نے کسی بیمار کے مزاج پرسی کی ہے۔؟حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے۔ پس رسول اللہ ﷺنے فرمایا جس میں یہ خوبیاں جمع ہوں گی وہ ضرور جنتی ہے۔ (صحیح مسلم الذکواۃ حدیث 1028]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1670 سے ماخوذ ہے۔