حدیث نمبر: 1666
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ شَيْخٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ سُفْيَانَ عِنْدَهُ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهَا ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے علی رضی اللہ عنہ سے بھی` اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1666
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (1665)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف :10071) (ضعیف) » (اس کی سند میں شیخ ایک مبہم راوی ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سائل کے حق کا بیان۔`
اس سند سے علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1666]
1666. اردو حاشیہ: ایک مسلمان جس نے اپنی آبرو کو دائو پر لگاتے ہوئے سوال کرنے کی عارکو قبول کرلیا ہو تو اسے بیک لفظ جھٹلا دینا مناسب نہیں۔ ممکن ہے وہ کسی اعتبارسے مستحق ہو۔ مثلا بہت زیادہ عیال رکھتا ہو۔ یا قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہو۔اپنے وطن سے دور اور مسافر ہو یا کسی کا ضامن ہو۔وغیرہ کئی اسباب ہوسکتے ہیں۔ اس لئے بلاوجہ اس کی تکذیب وتحقیر نہ کی جائے۔بلکہ جو مناسب ہو تعاون کردیا جائے۔ اور نصیحت کرنے سے بھی دریغ نہ کیاجائے۔جیسے کہ گزشتہ احادیث (163
➍ 1626) میں گزرا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1666 سے ماخوذ ہے۔