حدیث نمبر: 1661
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا حَقُّ الْإِبِلِ ؟ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، زَادَ : " وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبید بن عمر کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول ! اونٹوں کا حق کیا ہے ؟ پھر اس نے اوپر جیسی روایت ذکر کی ، البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے «وإعارة دلوها» ( اس کے تھن دودھ دوہنے کے لیے عاریۃً دینا ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1661
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (988)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف :18997)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزکاة 6 (988) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مال کے حقوق کا بیان۔`
عبید بن عمر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ پھر اس نے اوپر جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے «وإعارة دلوها» (اس کے تھن دودھ دوہنے کے لیے عاریۃً دینا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1661]
1661. اردو حاشیہ: ڈول عاریتاً دینے سے مراد معروف پانی کھینچنے کا برتن ہوسکتا ہے۔ یہ بھی خیر میں ایک تعاون کی ایک صورت ہے اور یہ سب کام مستحب مندوب اورفضیلت وشرف والے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1661 سے ماخوذ ہے۔