حدیث نمبر: 1660
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ الْغُدَانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذِهِ الْقِصَّةِ ، فَقَالَ لَهُ يَعْنِي لِأَبِي هُرَيْرَةَ : فَمَا حَقُّ الْإِبِلِ ؟ قَالَ : " تُعْطِي الْكَرِيمَةَ وَتَمْنَحُ الْغَزِيرَةَ وَتُفْقِرُ الظَّهْرَ وَتُطْرِقُ الْفَحْلَ وَتَسْقِي اللَّبَنَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کا قصہ سنا تو راوی نے ان سے یعنی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : اونٹوں کا حق کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : تم اچھا اونٹ اللہ کی راہ میں دو ، زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی عطیہ دو ، سواری کے لیے جانور دو ، جفتی کے لیے نر کو مفت دو اور لوگوں کو دودھ پلاؤ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1660
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن لغيره , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه النسائي (2444 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (2322 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الزکاة 2 (2444)، ( تحفة الأشراف :15453)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/383، 489، 490) (حسن) » (اس کے راوی ابوعمر الغدانی لین الحدیث ہیں، لیکن حدیث ماقبل ومابعد سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے)