حدیث نمبر: 1659
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ ، قَالَ فِي قِصَّةِ الْإِبِلِ بَعْدَ قَوْلِهِ " لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا " ، قَالَ : " وَمِنْ حَقِّهَا حَلَبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے` البتہ اس میں اونٹ کے قصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول : «لا يؤدي حقها ‏"‏ ‏.‏ قال ‏"‏ ومن حقها حلبها يوم وردها» کا جملہ بھی ہے ( یعنی ان کے حق میں سے یہ ہے کہ جب وہ پانی پینے ( گھاٹ پر ) آئیں تو ان کو دوہے ) ، ( اور دوہ کر مسافروں نیز دیگر محتاجوں کو پلائے ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1659
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2371) صحيح مسلم (987)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف :12321) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مال کے حقوق کا بیان۔`
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں اونٹ کے قصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: «لا يؤدي حقها ‏"‏ ‏.‏ قال ‏"‏ ومن حقها حلبها يوم وردها» کا جملہ بھی ہے (یعنی ان کے حق میں سے یہ ہے کہ جب وہ پانی پینے (گھاٹ پر) آئیں تو ان کو دوہے)، (اور دوہ کر مسافروں نیز دیگر محتاجوں کو پلائے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1659]
1659. اردو حاشیہ: پانی پلانے کے دن حاجت مند آسرا لگائے آجاتے ہیں۔ کہ اس دن دودھ دوہنے سے ان کوکچھ ملےگا۔اس دن سے پہلے دوہ لینابخل اور کنجوسی کی علامت اور فقراء کو محروم کرنے کا زریعہ ہے۔ اس لئے مذموم ہے۔ یعنی پانی پر لانے کے دن دودھ دوہ کر علاقے کے رہنے والے اوردیگر راہی مسافروں کو ہدیہ کرے۔یہ عمل مستحب ومندوب ہے۔جیسے کہ درج زیل روایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے واضح کیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1659 سے ماخوذ ہے۔