حدیث نمبر: 1651
حَدَّثَنَا  مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ  ، أَخْبَرَنَا  شُعْبَةُ  ، عَنْ  الْحَكَمِ  ، عَنْ  ابْنِ أَبِي رَافِعٍ  ، عَنْ  أَبِي رَافِعٍ  ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ ، فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ : " اصْحَبْنِي فَإِنَّكَ تُصِيبُ مِنْهَا " ، قَالَ : حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ ، فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : "مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَإِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کسی پڑی ہوئی کھجور پر ہوتا تو آپ کو اس کے لے لینے سے سوائے اس اندیشے کے کوئی چیز مانع نہ ہوتی کہ کہیں وہ صدقے کی نہ ہو ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1651
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث الآتي (1652)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف :1160)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 4 (2055)، واللقطة 6 (2431)، صحیح مسلم/الزکاة 50 (1071)، مسند احمد (3/184، 192، 258) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بنی ہاشم کو صدقہ دینا کیسا ہے؟`
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کسی پڑی ہوئی کھجور پر ہوتا تو آپ کو اس کے لے لینے سے سوائے اس اندیشے کے کوئی چیز مانع نہ ہوتی کہ کہیں وہ صدقے کی نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1651]
1651. اردو حاشیہ:۔اصل ورع وتقویٰ یہی ہے کہ جب تک کوئی بات واضح اور حق نہ ہو اس پر اقدام کرنے سے گریز کیاجائے۔بالخصوص مشکوک رزق سے بہت زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔
➋ کھجور یا اس طرح کی کوئی عام سی چیز گری پڑی ملے تو اسے اُٹھایا اور استعمال کیا جاسکتاہے۔اس کے لئے لقطہ والا حکم نہیں ہے۔ کہ پہلے اعلان کیا جائے اور اس کی تشہیر کی جائے۔ہاںا گرقیمتی چیز ہو تو اعلان وتشہیر لازم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1651 سے ماخوذ ہے۔